Friday, May 30, 2014

کامل نماز کا طریقہ


حماد بن عیسی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امام صادق(ع) نے مجھ سے کہا: کیا درست طریقے سے نماز پڑھ سکتے ہو؟

میں نے کہا: میرے آقا میں نے حریز کی کتاب کو یاد کیا ہے جو نماز کے بارے میں ہے۔

آپ(ع) نے فرمایا: تمہارے لئے کافی نہیں ہے، کھڑے ہو کر نماز پڑھو

حماد بن عیسی آپ(ع) کے برابر میں قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور رکوع و سجود انجام دیا۔

آپ(ع) نے فرمایا: اے حمّاد! ٹھیک سے نماز نہیں پڑھ رہے ہو۔ ایک شخص کے لئے کتنی بری بات ہے کہ وہ 60 یا 70 سال کی عمر کا ہو چکا ہو اور ایک کامل نماز انجام نہ دے سکتا ہو۔

حماّد کہتے ہیں کہ میں اپنی ہی نگاہوں میں شدید شرمندہ ہوا اور کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، مجھے نماز سکھائیں

امام صادق(ع) اپنے تمام قد کے ساتھ رو بقبلہ کھڑے ہوئے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھا اور انگلیوں کو باہم ملایا۔ دونوں پیروں کو قریب لے کر آئے یہاں تک کہ ان کے درمیان فاصلہ تین انگلیوں کے برابر رہا، اور پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ کیا اور نہایت خشوع اور سکون کے ساتھ "اللہ اکبر" کہا

اس کے بعد حمد اور قل ھو اللہ کو ترتیل اور خوبصورت قرات کے ساتھ پڑھا، اور پھر ایک سانس کے برابر وقفہ لیا۔ اورپھر دونوں ہاتھوں کو چہرے کے مقابل لے گئے اور کہا "اللہ اکبر"

اس کے بعد رکوع میں چلے گئے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس حالت میں کہ انگلیاں کھلی ہوئی تھیں اپنے دونوں گھٹنوں کا احاطہ کیا اور گھٹنوں کو پیچھے اس طرح سے کیا کہ ان کی پشت ہموار ہو گئی، اگر پانی یا کوئی روغن بہایا جاتا تو وہ ہرگز نہ گرتی کیونکہ آپ کی پشت بالکل ہموار تھی۔ گردن کو جھکا کر اپنی آنکھوں کو بند کیا اور تین بار بڑے آرام و متانت سے کہا؛

سبحان ربی العظیم وبحمدہ

اس کے بعد کھڑے ہو گئے اور جب حالت سکون میں آگئے تو فرمایا: سمع اللہ لمن حمدہ

اسی طرح کھڑے ہو کر تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے مقابل لے گئے۔ اس کے بعد سجدے میں گئے اور اپنے ہتھیلیوں کو اس حالت میں کہ انگلیاں باہم ملی ہوئی تھیں اپنے چہرے کے برابر رکھا اور تین بار کہا؛

سبحان ربی الاعلی وبحمدہ

اور اپنے بدن میں کسی عضو کو نہیں ہلایا، اور آٹھ اعضاء کے ساتھ سجدہ کیا۔ دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پیروں کے انگوٹھے، پیشانی اور ناک۔

آپ(ع) نے فرمایا: سجدہ میں ان آٹھ اعضاء میں سے سات اعضاء کا زمین پر رکھنا واجب ہے، اور یہ وہی ہیں جن کے بارے میں اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: وَ أَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَداً اور یہ اعضاء دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنوں، دونوں پیروں کے انگوٹھے، اور پیشانی ہیں۔ اور ناک کو زمین پر رکھنا سنّت ہے۔

اس کے بعد سر کو سجدہ سے اٹھایا، اور جب زمین پر حالت سکون میں بیٹھ گئے تو اللہ اکبر کہا اور اپنے بائیں طرف اس حالت میں بیٹھے کہ دائیں پیر کے اوپری حصّے کو (جس پر مسح ہوتا ہے) بائیں پیر کی پشت پر رکھا۔ اور کہا؛

استغفر اللہ ربی واتوب الیہ

اور بیٹھ کر ہی دوبارہ تکبیر کہی اور دوسرے سجدے میں گئے اور وہی پڑھا جو پہلے سجدے میں پڑھا۔ رکوع و سجود میں اپنے کسی عضو کو کسی اور عضو پر نہیں رکھا، اور اپنے ہاتھوں کو (سجدے میں) بدن سے باہر کی جانب رکھا اور کہنیوں کو زمین پر نہیں رکھا۔ اسی طرح سے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر تشہد کے لئے ایسے بیٹھے کہ ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملی ہوئی تھیں۔ اور جب تشہد کے بعد سلام پھیرا تو فرمایا: اے حمّاد اس طرح نماز پڑھا کرو۔

(کافی ج6 ص141 طبع دارالحدیث، من لا یحضرہ الفقیہ ج1 ص300، تہذیب الاحکام ج2 ص81)

مذکورہ حدیث مشایخ ثلاثہ (کلینی و صدوق و طوسی) نے نقل کیا ہے اور تینوں کی اسناد صحیح ہیں۔

اس حدیث سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں؛

اوّل) یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ نماز کی ہمارے آئمہ(ع) کی نگاہوں میں کتنی اہمیت تھی، ان کی نگاہ میں صرف نماز پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ نماز کو مکمّل طریقے سے پڑھنا ضروری ہے

دوّم) اس سے ان لوگوں کی بھی رد ہوتی ہے جو مروّجہ نماز کو نماز نہیں سمجھتے، بلکہ کچھ ناموں کو یا نعروں کو یا دیگر افعال کو نماز کا رتبہ دیتے ہیں

سوّم) اگر آئمہ(ع) کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو نماز کو احسن طریقے سے ادا کر کے خدا کی خوشنودی حاصل کریں

چہارم) اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آئمہ(ع) اپنے شیعوں کی تربیت کے لئے کتنے فکرمند رہتے تھے، اس بارے میں ہمارے علماء و عمائدین کو سوچنا چاھئے۔

اصلاح نماز پر ہماری پرانی سیریز کی روشنی میں یہ حدیث پڑھیں تو ان تحریروں کی بھی تاکید مکرّر ہو جاتی ہے۔

وما علینا الاّ البلاغ

خاکسار: ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

بچوں کی تکریم



اسلام کی خوبصورت تعلیمات میں سے ایک بچّوں کی تکریم اور احترام کا حکم ہے، تاکہ ایسے لوگ مستقبل کے لئے پروان چڑھیں جن کی عزّت نفس موجود ہو، اور سالم و صالح بدن اور روح کے ساتھ معاشرے کی تشکیل نو کریں۔ اسی لئے رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے؛

اکرمو اولادکم واحسنو آدابکم

یعنی اپنی اولاد کی تکریم کرو اور بہترین آداب کے ساتھ ان کے ساتھ معاشرت کرو


اگر بچوں کی تکریم اور احترام کیا جائے تو وہ صاحب فضل اور شرافت ہوں گے، اور وہ دوسروں کی تکریم کرنا جانیں گے، لیکن اگر ان کی تحقیر یا اہانت کی جائے تو ان کے فضل کی نشوونما متوقّف ہو جائے گی۔ حضرت ختمی مرتب(ص) فرماتے ہیں؛

اذا سمّیتم الولد فاکرموہ واوسعوا لہ فی المجالس ولا تقبّحو لہ وجھا

"جب اپنی اولاد کا نام لو تو اس کی تکریم کرو، اور ان کے لئے بیٹھنے کی جگہ قرار دو (اس کا احترام کرو) اور اس کے ساتھ بدخلقی سے پیش نہ آؤ۔"


رسول اللہ(ص) کی زندگی میں بھی ہمیں ملتا ہے کہ آپ بچوں کی تکریم کا خاص خیال رکھتے تھے، جب آپ کی خدمت میں کوئی بچہ ولادت کے بعد نام رکھوانے کے لئے پیش کیا جاتا تو آپ فورا اس کو گود میں لے لیتے، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بچّہ نے آپ کی گود میں ہی کپڑے خراب کر دیئے، آس پاس کے لوگ غصّے سے بچے پر چیختے لیکن رسول اللہ(ص) ان کو منع کرتے۔

ایک حدیث ہمیں یوں ملتی ہے؛

عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ص بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَخَفَّفَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ النَّاسُ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ حَدَثٌ قَالَ وَ مَا ذَاكَ قَالُوا خَفَّفْتَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ فَقَالَ لَهُمْ أَمَا سَمِعْتُمْ صُرَاخَ الصَّبِي

عبداللہ ابن سنان امام صادق(ع) سے نقل کرتے ہیں، آپ(ع) نے فرمایا: "رسول اللہ(ص) ایک دفعہ نماز ظہر لوگوں کے ساتھ (جماعت میں) پڑھ رہے تھے۔ آپ نے ناگہان آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھا (مستحبات کو چھوڑ کر)۔ جب آپ فارغ ہوئے تو لوگوں نے نے پوچھا کہ آیا نماز میں کچھ ہو گیا؟ تو آپ(ص) نے پوچھا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے آخری رکعتوں کو بہت مختصر پڑھا۔ تو آپ(ص) فرماتے ہیں: مگر تم لوگوں نے بچّے کی رونے کی آواز نہیں سنی؟

(کافی: ج6 ص48)


مذکورہ حدیث کی سند صحیح ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رسول(ص) بچوں کی تکالیف اور ان کی ضروریات کا کتنا خیال رکھتے تھے۔

نقل کیا گیا ہے کہ رسول(ص) عملی طور پر بھی بچوں کی تکریم کرتے تھے۔ جب کہیں روانہ ہوتے تو راستے میں لوگوں کے بچّے آپ کے احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ آپ ان بچوں کو اٹھاتے، کسی کو گود میں لیتے اور کسی کو اپنی پشت پر چڑھاتے اور اپنے اصحاب سے فرماتے کہ بچّوں کو گود میں لیا کرو اور اپنی دوش پر چڑھایا کرو۔۔۔ بچّے اس بات سے بہت خوش ہوتے اور ان یادوں کو کبھی فراموش نہ کرتے، جب بڑے ہونے کے بعد کبھی جمع ہوتے تو ایک دوسرے کو یہ بات سنا کر فخر کرتے۔ (المحجۃ البیضاء: ج3 ص367)

آپ(ص) کی عادت تھی کہ جب بھی کسی بچّے سے ملتے اس کو سب سے پہلے خود سلام کرتے تاکہ اس کی تکریم ہو اور تاکید کرتے کہ ان کی اس سنّت پر عمل کیا جائے۔ چنانچہ مروی ہے؛

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

رسول اللہ(ص) کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (مکارم الاخلاق: ص16)

شیخ صدوق کی امالی میں ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ(ص) فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کو میں مرتے دم تک ترک نہیں کروں گا تاکہ میرے بعد یہ میری سنّت بن جائیں (جن پر لوگ عمل کریں)۔ آپ(ص) کے فرمان کے مطابق ان میں سے ایک چھوٹوں پر سلام ہے۔ (امالی صدوق ص44، بحارالانوار: ج16ص215)

جبکہ ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ بڑے اپنے بچّوں کو سلام نہ کرنے پر ٹوکتے ہیں۔ اگر ان کی عادت سلام میں پہل کرنا نہیں ہے تو کسی بڑے کے سلام کرنے سے خود شرمندہ ہو جائیں گے اور اپنی سلام نہ کرنے کی عادت کو ترک کر دیں گے۔ بعض منچلے تو ایسے ہیں کہ کسی چھوٹے کے سلام نہ کرنے پر اس کو "وعلیکم السلام" کہہ کر شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیا ہم اپنے رسول(ص) کی ان سنّتوں پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچّوں اور دوسرے بچوں کی اس طرح تکریم کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہیں؟

جب بچوں کے ساتھ تکریم کرنے پر اتنی اہمیت ہے تو ہم میں جو عمر، علم اور کردار کے لحاظ سے بڑے ہیں ان کی تکریم کی اہمیت کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔

ان سنّتوں پر عمل کیجئے تاکہ ہمارا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے بہترین معاشرہ ہو۔

وما علینا الا البلاغ

خاکسار: ابوزین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

نسل اور نسب کی فضیلت نہیں


٭نسل اور نسب کی فضیلت نہیں: فضیلت صرف تقوی کی ہے٭

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رِئَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَذَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَكَّةَ قَامَ عَلَى الصَّفَا فَقَالَ يَا بَنِي هَاشِمٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي ر
َسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ وَ إِنِّي شَفِيقٌ عَلَيْكُمْ لَا تَقُولُوا إِنَّ مُحَمَّداً مِنَّا فَوَ اللَّهِ مَا أَوْلِيَائِي مِنْكُمْ وَ لَا مِنْ غَيْرِكُم إِلَّا الْمُتَّقُونَ أَلَا فَلَا أَعْرِفُكُمْ تَأْتُونِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُونَ الدُّنْيَا عَلَى رِقَابِكُمْ وَ يَأْتِي النَّاسُ يَحْمِلُونَ الْآخِرَةَ أَلَا وَ إِنِّي قَدْ أَعْذَرْتُ فِيمَا بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ وَ فِيمَا بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ بَيْنَكُمْ وَ إِنَّ لِي عَمَلِي وَ لَكُمْ عَمَلُكُم
امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ(ص) نے مکّہ فتح کیا تو آپ کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

"اے بنی ھاشم! اے بنی عبدالمطلب!

میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اور میں تمہارا شفیق اور دلسوز ہوں، مجھے تم سے محبّت ہے۔۔۔ لہذا یہ مت کہو کہ محمد(ص) ہم میں سے ہیں۔۔۔ اللہ کی قسم تم (بنی ہاشم) میں سے اور دیگر (قبائل و اقوام) میں سے متّقین کے سوا میرا کوئی دوست نہیں ہے۔

جان لو میں تمہیں روز محشر نہیں پہچانوں گا کیونکہ تم نے دنیا کی محبّت کو دوش پر سوار کیا ہوگا جبکہ دیگر لوگوں نے آخرت کو دوش پر اٹھایا ہوگا۔

یاد رکھو! میں نے اپنے اور تمہارے درمیان، اور اللہ اور تمہارے درمیان کسی قسم کا عذر اور بہانہ نہیں چھوڑا۔ میرے ذمّے میرا عمل ہے اور تمہارے ذمّے تمہارا عمل ہے۔"

(کافی: ج8 ص182، صفات الشیعہ: حدیث8)

رجال الحدیث:

اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں

درایت الحدیث:

اس روایت کو شیخ کلینی اور صدوق دونوں نے نقل کیا۔ شیخ صدوق کی سند صحیح ہے۔ یہ حدیث حکم قرآنی کے بھی عین مطابق ہے "انّ اکرمکم عنداللہ اتقاکم"، لہذا متن اور سند دونوں اعتبار سے یہ درجۂ اعتبار پر فائز ہے۔

فوائد الحدیث:

کسی بھی نسل کو برتری حاصل نہیں ہے، معیار خون اور نسل نہیں بلکہ تقوی اور پرھیزگاری ہے۔ مومن مومن کا کفو ہے، لہذا کوئی بھی مومن کسی بھی مومنہ سے شادی کر سکتا ہے، نسلی برتری اور تفاخر کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔

سادات کا احترام امّتی اس لئے کرتے ہیں کیونکہ ان کو خاندان عصمت سے نسبت ہے۔ لیکن سادات کو تفاخر کا اظہار نہیں کرنا چاھئے اور نہ ہی دیگر نسلوں کو پست سمجھنا چاھئے، بلکہ اس نسبت کی وجہ سے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سادات کو تو تقوی اور پرھیزگاری میں باقی سب سے افضل ہونا چاھئے تب جا کر وہ اپنے آپ کو فخریہ سادات قرار دے سکتے ہیں۔

یہ نسبت روز محشر کسی قسم کا فائدہ نہیں دے سکتی۔ اور یاد رہے کہ نبی(ص) سے نسب جوڑنے والے وہاں ہوں اور ان کے نامۂ اعمال سبک ہوں اور حقوق الناس کی رعایت نہ کرتے ہوں تو یقینا یہ لوگ کن کو شرمندہ کریں گے؟

اللہ تعالی ہم سب کی ہدایت کرے۔

خاکسار: ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

کونڈوں کی شرعی حیثیت


س) کیا کونڈے جائز ہیں؟ کیا یہ بات درست ہے کہ شیعہ اس لئے اس دن کو مناتے ہیں کیونکہ اس دن امیر معاویہ کی وفات ہوئی؟

ج) اس سوال کی کئی جہات ہیں، مؤمنین بلکہ مسلمین بلکہ کسی بھی انسان کو کھانا کھلانا یا اطعام کرنا یا دعوت کرنا باعث ثواب ہے۔ اگر اس رسم کو اس نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ باعث ثواب ہے۔

اس سوال کی دوسری جہت یہ ہے کہ کیا رجب کے مہینے میں ہی اس کو منانے کی کوئی شرعی دلیل ملتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں کوئی شرعی دلیل نہیں ملتی کہ 22 رجب کو فلاں کیفیت کے ساتھ دعوتیں کی جائیں۔ ہاں اگر مومنین کو اطعام کی نیّت سے ہے تو کسی بھی دن خوب رہے گا، لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ 22 رجب کو ہی اس خاص کیفیت سے کونڈے کرنے کا کوئی حکم معصوم کی طرف سے صادر ہوا ہے۔

شاید آپ میں بہت سوں کے لئے یہ بات نئی ہو، یہ کونڈے برّصغیر کی رسم ہے، اس کی شروعات بیسویں صدی کے اوائل یا انیسویں صدی کے اواخر میں اتر پردیش سے ہوئی۔ وہاں سے پھر یہ پنجاب و سندھ وغیرہ بھی پہنچا۔ اسی لئے برّصغیر کے دیگر علاقوں جیسے مقبوضہ جمّوں و کشمیر، لداخ و بلتستان، گلگت و پاراچنار وغیرہ میں ایسی کوئی رسم نہیں ہے۔ برّصغیر سے باہر ایران و عراق، افغانستان، ترکی، لبنان، بحرین، شام و آذربائجان میں اس کا تصوّر بھی محال ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ وہ مشہور کہانی جو کونڈوں کے موقعے پر پڑھی جاتی ہے خالص ہندوستانی اختراع ہے۔

یہاں اس سوال کے تیسرے جہت پر کلام کریں گے، اور وہ ہے لکڑہارے کی مشہور کہانی جو کونڈوں کے مواقع پر پڑھی جاتی ہے۔ یہ کہانی کافی لمبی چوڑی ہے جس کا ذکر طوالت کا باعث بنے گا، مختصر یہ کہ کسی لکڑہارے کے گھر پر فاقے ہو رہے تھے تو امام صادق(ع) نے ان کو خاص کیفیت میں پوڑیاں پکا کر کونڈوں میں بھر کر کھلاؤ۔ اس لکڑہارے نے ایسا کیا تو اس کی قسمت جاگی خزانہ ملا۔ اس کی بیوی پہلے کسی وزیر کے گھر پر خادمہ تھی، جب اس کی قسمت جاگی تو وزیر کی بیوی کو ان کونڈوں کے اسرار کا پتہ چلا لیکن اس نے ماننے سے انکار کیا۔ اس انکار کی اس کو سخت سزا ملی، وزیر کو اپنی وزارت سے ہٹا دیا گیا۔ بادشاہ کا بیٹا غائب ہوا تو دشمنوں نے افواہ اڑائی کہ کہیں اس وزیر نے تو بیٹے کو ہلاک نہیں کیا۔ وزیر کی بیوی خربوزہ یا تربوز خرید رہی تھی ان کو پکڑ لیا گیا، بادشاہ نے اس کے ہاتھ میں رومال دیکھ کر کہا کہ اس میں کیا ہے تو وزیر نے کہا خربوزہ ہے لیکن کھول کر دیکھا گیا تو بادشاہ کے بیٹے کا سر نکلا۔ ان کو قتل کرنے کی سزا ہوئی، جب میاں بیوی بیٹھے تو انہوں نے سوچا کہ آخر ان سے کیا غلطی ہوئی ہے، تو بیوی نے بتایا کہ اس نے کونڈوں کا انکار کیا تھا، اس پر دونوں توبۂ نصوح کرتے ہیں اور کونڈوں کی منّت مانتے ہیں۔ جب بادشاہ نے دوبارہ بلایا اور رومال کھولا تو بیٹے کا سر نہیں تھا بلکہ وہ خربوزہ ہی تھا۔ بادشاہ یہ دیکھ کر سٹپٹا گیا تو وزیر نے کونڈوں کی کرامتیں سنائیں تو بادشاہ ششدر رہ گیا (ہم نے کہانی مختصر طور پر نقل کفر کفر نباشد کے مصداق لکھی ہے)۔

ہم نے یہ کہانی بہت مختصر کر کے سنائی ہے، اس پوری کہانی کو پڑھنے کے بعد اس بناوٹی کہانی پر لب کشائی کے لئے بھی الفاظ نہیں۔ واضح ہے کہ یہ کہانی یوپی کے کسی بانکے نے بنائی ہے، کیونکہ امام جعفر صادق(ع) کے دور میں بادشاہت میں وزارت کا کوئی عہدہ نہیں تھا۔ امویوں کے دورخلافت میں وزیر اعظم کا کوئی عہدہ نہیں ملتا، امام(ع) کا آخری دور عباسیوں کے عروج حاصل کرنے کا زمانہ تھا۔ اس میں بھی اس منصب کا کوئی وجود نہیں ملتا، بعد میں جب عباسی حکومت مستحکم ہوئی تو اس منصب کو بنایا گيا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مدینہ میں کسی قسم کی بادشاہت تھی ہی نہیں، بادشاہ کا دارالحکومت اموی دور میں دمشق تھا اور عباسیوں نے بغداد کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ لہذا اس کہانی پر کچھ کہنا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔

اب یہ تو واضح ہے کہ یہ کہانی معصوم(ع) سے کسی طور منسوب نہیں، تو اس کہانی کا پڑھنا کیسا ہے؟ اس کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ جب کسی واقعے کا جعلی ہونا ثابت ہو جائے تو اس کو نقل کرنا معصومین(ع) پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ اگر بالفرض جعلی ہونا واضح نہ ہوتا تب بھی اس کا کسی مستند کتاب میں موجود نہ ہونا ہی اس کہانی کو پڑھنے کے عدم جواز کے لئے کافی تھا۔

سوال کی آخری جہت یہ ہے کہ کیا اس دن کو امیر معاویہ کی وفات کی وجہ سے منانا مقصود ہوتا ہے۔ اس کا جواب بہت واضح سا ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اولاً اس الزام کا شرعی ثبوت کیا ہے؟ محض الزام لگانا کافی نہیں۔ امیر معاویہ کی وفات رجب کے مہینے میں ضرور ہوئی لیکن کوئی معتبر تاریخی حوالہ نہیں کہ 22 رجب کو ہوئی۔ دوّم یہ کہ اس دن کوئی خوشی نہیں منائی جاتی اور محض نیاز دلائی جاتی ہے جو اس لکڑہارے کی کہانی کی وجہ سے ہے۔

نتیجہ گیری:

اوپر پوری بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بذات خود کونڈے کھلانے اور اطعام مسلمین میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ باعث ثواب ہے، لیکن اس دن جعلی کہانی پڑھ کر معصومین ع پر جھوٹ نہ باندھا جائے۔ اگر کونڈے دلانا مقصود ہو تو فقط اس نیّت سے کھلائیں کہ اللہ کی رضا کے لئے مومنین کو دعوت دے رہے ہیں، اور جعلی کہانی کے بجائے کوئی معتبر دعا پڑھ لیں یا سورہ یس وغیرہ کی تلاوت کر لیں۔

والسّلام علی من اتبع الھدی

خاکسار: ابوزین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

شیخ صدوق کی لکھی ہوئی کتاب "مدینۃ العلم" کا وجود


"مدینۃ العلم" ایک گمشدہ کتاب

س) کہا جاتا ہے کہ شیخ صدوق نے "من لایحضرہ الفقیہ" سے بھی ضخیم کتاب لکھی تھی، لیکن یہ ناپید ہو گئی۔ علامہ مجلسی نے اس کتاب کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن نہیں ملی۔ اس کی حقیقت سے آگاہ کریں نیز کیا وجوہات تھیں جو یہ کتاب ناپید ہوئی؟

ج) یہ واقعی ایک معمّہ ہے، اگر یہ کتاب اس قدر اہم ہوتی تو اس کا ناپدید ہونا سمجھ سے باہر ہے۔ کتب اربعہ اوائل سے لے کر اب تک شیعوں کے درمیان تواتر کے ساتھ موجود رہی، آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی عظیم کتاب سے بے اعتنائی برتی گئی؟ آخر چند نسخے چند لوگوں کے پاس ہی کیوں بچے تھے؟ تاریخ میں ہمیں شیخ طوسی کے کتابخانے کے جلائے جانے کا ذکر ملتا ہے، لیکن سید مرتضی کا کتابخانہ پھر بھی بچا تھا جو شیخ طوسی سے بھی بڑا تھا، اور اس عظیم سرمائے سے شیخ طوسی بھی استفادہ کرتے رہے۔

اس کتاب "مدینۃ العلم" کا تذکرہ خود شیخ صدوق علیہ الرّحمہ نے عیون اخبار الرضا میں کیا ہے،شیخ طوسی اپنی کتاب "فہرست مصنّفات علمای امامیہ" میں شیخ صدوق کی کتب میں سے چالیس کتب کا نام لیتے ہیں جن میں سے ایک "مدینۃ العلم" ہے، مزید تصریح کرتے ہیں کہ یہ کتب حجم میں "من لا یحضرہ الفقہ" سے بھی بڑا تھا۔ شیخ نجاشی بھی اپنی کتاب میں شیخ صدوق کی 194 کتب کے نام لیتے ہیں جن میں سے آٹھویں "مدینۃ العلم" ہے۔

ابن شہر آشوب نے معالم العلماء میں ادّعا کیا ہے کہ مدینۃ العلم دس جلدوں پر مشتمل تھا، درحالیکہ من لا یحضرہ الفقیہ چار جلدوں میں ہے۔ شہید اوّل اپنی کتاب "ذکری" میں لکھتے ہیں کہ من لا یحضرہ الفقیہ اور مدینۃ العلم دونوں کو ملا لیا جائے تو یہ کافی کے برابر ہے۔

یہ کتاب شیخ بہائی کے والد حسین بن عبدالصمد کے پاس تھی اور انہوں نے کتب معتبرہ میں اس کا شمار کیا ہے، بلکہ قرین قیاس یہ ہے کہ ان کے بیٹے شیخ بہائی کے پاس بھی تھی۔ اسی زمانے میں ایک اور عالم سید حسین بن حیدر کرکی اپنے شاگرد کو دیگر کتب حدیث کا اجازہ دیتے ہیں تو کتاب مدینۃ العلم کا بھی دیتے ہیں۔

لیکن جب علامہ مجلسی کا دور آتا ہے تو یہ کتاب ایک دم نایاب ہو جاتی ہے، علامہ مجلسی نے کافی تگ و دو کی لیکن یہ کتاب ان کو نہیں ملی، کہا جاتا ہے کہ ان کے ایک حریف سید محمد میرلوحی اصفہانی کے پاس یہ کتاب موجود تھی۔ علامہ مجلسی نے ان سے درخواست کی کہ یہ کتاب ان کو استنساخ کے لئے دی جائے تاکہ وہ اس کتاب کو اپنے مجموعے بحارالانوار میں شامل کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ سید محمد میرلوحی نے حسد کی وجہ سے یہ کتاب ان کو نہیں دی۔ بعد میں جب افغانیوں نے ایران پر حمل کیا اور اصفہان کو غارت کیا تو یہ کتاب بھی ضائع ہو گئی۔

ان کے بعد قاجاری دور میں ایک اور عالم سید محمد باقر شفتی نے اس کتاب کو حاصل کرنے کی بہت کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ کافی پیسہ خرچ کر کے انہوں نے یمن میں اس کتاب کو ڈھونڈوایا لیکن یہ کتاب ان کو یمن سے بھی نہ ملی۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کتاب اچانک سے کیسے غائب ہو گئی؟ اگر وہ اتنی عظیم کتاب تھی تو ہمارے علماء نے طوسی سے لے کر شیخ بہائی تک اس کتاب سے نقل کیوں نہ کیا؟ ابن ادریس حلّی و سید ابن طاؤوس و علامہ حلّی و شہیدین اوّل و ثانی نے بہت سی فقہی کتب لکھیں جن میں کتب اربعہ سے کثرت سے نقل کر کے ان سے استنباط کیا۔ لیکن ہمیں مدینۃ العلم سے بہت کم روایات ملتی ہیں۔ ایک فاضل حسین کریمی کی تحقیق کے مطابق تمام کتب فقہ، رجال و حدیث و ادعیہ کو گھنگالنے کے بعد فقط 20 روایات ملتی ہیں جو مدینۃ العلم سے لی گئی تھیں۔ یہ نہایت عجیب سی بات ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں کسی نتیجے تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے۔

غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مدینۃ العلم ایک حدیث کا مجموعہ ضرور تھا لیکن اس میں بہت کم ایسی احادیث تھیں جو کتب اربعہ میں نہ ہوں۔ جس طرح اصحاب کی لکھی ہوئی اصول اربعماہ کتب اربعہ کے بعد ناپید ہو گئيں کیونکہ ساری احادیث ان کتب میں سما گئی تھیں، اسی طرح سے مدینۃ العلم کو بھی ساتھ رکھنے اور نسخہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔ لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مدینۃ العلم کے ناپید ہونے سے بہت بڑا حدیث کا مجموعہ ناپید ہوا، کیونکہ اس میں روایات مشہور کتب کے مجموعے سے ہٹ کر نہیں تھیں اسی لئے علماء نے قرون وسطی کے بعد اس کی حفاظت کے معاملے میں تساہل سے کام لیا۔

واللہ اعلم بالصواب

خاکسار: ابوزین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

27 رجب: معراج یا بعثت؟


س) کیا 27 رجب کی رات رسول اللہ(ص) کی معراج کی رات تھی یا ان کی بعثت کی رات تھی؟

جواب) اس بابت مسلمانوں میں شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان اختلاف ہے۔ شیعہ علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اس دن رسول اللہ(ص) کو رسالت کے لئے مبعوث کیا گیا، جبکہ اہلسنّت کے ہاں مشہور ہے کہ اس دن آپ کا سفر معراج ہوا۔

برّصغیر کے شیعوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ان کے ہاں بھی اس شب معراج ہوا، چنانچہ وہ بھی اس دن ایک دوسرے کو شب معراج کی مبارکبادی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ یقینا سنّی اکثریت کے اثرات کی وجہ سے ہے۔


دوسری طرف ایران میں اہل سنّت اس دن کو عید مبعث کے حوالے سے مناتے ہیں، یہ بھی یقینا شیعہ اکثریت کے اثرات کی وجہ سے ہے۔ البتہ ایران میں خود سنّیوں کے درمیان اس بات پر تنازعہ رہتا ہے کہ اس شب معراج ہوئی یا عید مبعث ہوا۔

اس اختلاف سے قطع نظر سوال یہ اٹھتا ہے کہ شیعہ مسلک کے مطابق رسول پاک(ص) کی معراج کس دن ہوئی؟ علماء میں مشہور یہ ہے کہ 17 رمضان کو آپ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔ بعض اقوال اور روایات کے مطابق 21 رمضان بھی ملتا ہے۔ علاوہ ازیں ہمیں ربیع الاول و محرّم کے بھی اقوال ملتے ہیں۔ یہ بات زیادہ مناسب لگتی ہے کہ رسول اللہ(ص) کو ایک سے زائد دفعہ سفر معراج نصیب ہوا، ممکن ہے کہ یہ تاریخ میں اختلاف اسی وجہ سے ہو۔ علامہ طباطبائی(قدس سرّہ) نے قرآن مجید میں سورہ نجم کی آیت 13 سے استفادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنجناب(ص) دو دفعہ سفر معراج پر گئے۔

وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى

اور بتحقیق انہوں نے پھر ایک مرتبہ اسے دیکھ لیا،

یاد رہے کہ یہ سورہ نجم کی وہ آیات ہیں جو سفر معراج کے بارے میں ہی ہیں۔ البتہ علامہ طباطبائی نے دو دفعہ سے زیادہ سفر معراج کو بعید کہا ہے۔

داعی الی الحق: ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ


خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ


سوال) کیا خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟ اور کیا اس کے لئے دعائے مغفرت کی جا سکتی ہے؟

جواب) ہمارے ہاں ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جس نے خودکشی کر لی اس کا غسل و کفن، مجلس ترحیم اور رحمت و مغفرت کی دعا جائز نہیں ہے۔ یہ ایسی غلط فہمی ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خودکشی کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے۔

لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ خودکشی کرنے والا ایک عظیم گناہ کا مرتکب ہوا ہے، جس طرح گناہان کبیرہ کو انجام دینے سے انسان جہنم کا حقدار ہو جاتا ہے اسی طرح خودکشی کرنے سے بھی ہو جاتا ہے بلکہ اپنی جان جو کہ اللہ کی امانت ہے اس کو ختم کر دینا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

خودکشی اس لئے بھی سنگین ہے کیونکہ اس میں انسان کے پاس توبہ کے راستے ختم ہو جاتے ہیں۔ دیگر گناہوں میں انسان صدق دل سے استغفار کر سکتا ہے یا حقوق العباد سے متعلق گناہوں کا مرتکب ہوا ہے تو ان لوگوں سے معافی مانگ سکتا ہے یا نقصانات کا ازالہ کر سکتا ہے لیکن خودکشی کی صورت میں مذکورہ شخص اس دنیا میں ہی موجود نہیں رہتا کہ استغفار کر سکے تو پھر جہنّم اس کا مقدّر ہے۔

علاوہ ازیں خودکشی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہو گیا جو بذات خود ایک عظیم گناہ ہے۔


لیکن ان تمام باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے باقی تمام اچھے اعمال بیکار گئے اور اس کا غسل و کفن و دفن جائز نہیں۔ ہم کتنے ہی گنہگار لوگوں کو غسل دیتے ہیں تجہیز و تکفین کرتے ہیں اور ایصال ثواب وغیرہ کرتے ہیں، اسی طرح ایک خودکشی کرنے والے شخص کے لئے بھی یہ سب جائز ہے۔ جیسے تمام مسلمانوں کے لئے نماز جنازہ میں شرکت واجب کفائی ہے، اسی طرح ایک خودکشی کرنے والے مسلمان کی نماز جنازہ میں بھی شرکت واجب کفائی ہے۔

ہر شخص جس کا نامۂ اعمال کا بایاں پلڑا بھاری ہو وہ جہنّم میں جائے گا چاہے وہ مسلمان ہو۔ ہاں وہ مسلمان اپنے اعمال کی سزا پا کر جنّت میں جائے گا، یہی بات خودکشی کرنے والے کے لئے بھی ہے۔ وہ خودکشی کر کے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا لیکن یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ اس کے نامۂ اعمال پر بھاری ہوگا۔

خاکسار: ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ