Tuesday, February 11, 2014

قریبی شادیوں میں کراہت


سوال: میڈیکل سائنس میں کچھ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ماں یا باپ کی طرف سے جو رشتے ہوتے ہیں(کزنز) وغیرہ، اگر انکی آپس میں شادیاں ہوں تو بیماریاں بڑھنے یا نئ بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ کیا تعلیمات آئمہؑ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے؟ یا آئمہؑ نے کبھی اس بات سے منع کیا ہے کہ ان رشتوں میں نسل در نسل شادیوں سے پرہیز کیا جائے؟

جواب: امام صادق(ع) فرماتے ہیں: ولا تنكحوا القرابۃ القريبہ فان الولد یخلق ضاوی یعنی "نزدیکی رشتہ داروں سے 
شادی مت کرو کیونکہ اس سے ضعیف اولاد پیدا ہوتی ہے"۔ 

یہ روایت شیخ طوسی نے نہایۃ الاحکام میں، علامہ حلی نے تذکرۃ الفقہاء میں، شہید ثانی نے مسالک الافہام میں، اور شیخ یوسف بحرانی نے حدائق الناظرہ میں نقل کی ہے۔ آيت اللہ مکارم شیرازی نے بھی اپنی ایک استفتاء میں اس روایت سے استدلال کیا ہے اور نہایت قریبی شادیوں میں کراہت کے قائل ہوئے ہیں۔

لہذا نسل در نسل قریبی رشتہ داروں میں شادیاں بہت سے جینیاتی مسائل کو جنم دیتی ہیں جس کی طرف امام ع نے اشارہ فرمایا اور میڈیکل سائنس اس کی تائید کرتی ہے۔ البتہ اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ کزنز میں شادیاں مکروہ ہوں گی، بلکہ یہ کراہت اسی صورت میں ہوگی جب نسل در نسل ایسی شادیاں وقوع پذیر ہوں۔

دیگر اقوام و قبائل میں شادیوں سےرشتہ داریاں بھی بڑھتی ہیں اور اولاد قوی اور ذہین پیدا ہوتی ہے۔ 

واللہ اعلم

الاحقر: ابوزین الہاشمی

No comments:

Post a Comment