Tuesday, January 7, 2014

کیا الّو عزادار پرندہ ہے؟

سوال) کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر ایک روایت کافی مشہور ہوئی جس میں الّو کے بارے میں درج تھا کہ وہ عزادار ہے، پہلے شہروں میں انسانوں کے ساتھ رہتا تھا، واقعۂ کربلا ہوا تو شہر چھوڑ کر جنگلوں میں گیا جہاں دن بھر روزہ رکھتا ہے، اور راتوں کو جاگنا شروع کیا (اس سے پہلے رات کو نہیں جاگتا تھا)۔ آپ نے اس واقعے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، اس بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں۔

جواب) ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ امام حسین ع پر تمام چرند و پرند، آسمان و زمین، نباتات و جمادات سب نے گریہ کیا۔ لیکن ہمیں اس الّو والی روایت کی سند و متن میں اشکال رہا ہے۔ روایت کو صرف نقل کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ روایت میں درایت ضروری ہوتی ہے یعنی اس کی صحّت و سقم پر غور و فکر اور اس کو سمجھنا، اس روایت کو قرآن و سنّت اور عقل سلیم پر پرکھنا تاکہ اس روایت کے اعتبار کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ درایت کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اس روایت کو قبول کرنے کی وجہ سے مذھب حقّہ پر سوالات اٹھتے ہوں۔

چنانچہ حدیث ہے؛ حدیث تدریه خیر من الف حدیث ترویه

"ایک حدیث جو درایت پر سمجھی جائے ہزار احادیث سے بہتر ہے جو محض روایت کی جائیں۔"

جب الّو والی روایت کو ہم درایت کے اصولوں پر پرکھتے ہیں تو یہ ناقابل قبول معلوم ہوتی ہے۔ الّو کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تاریخ، یہ ہمیشہ سے جنگلوں میں رہتا تھا اور راتوں کو جاگتا ہے اور دن کو سوتا ہے۔ قدیم یونان میں اس کے رات کو جاگنے کی وجہ سے الوّ کو عقل و علم کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب بھی یورپ میں کئی یونیورسٹیوں کے مونوگرام میں الّو بنا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ واقعۂ کربلا کے بعد الّو نے جنگلوں میں رہنا شروع کیا، یا اس واقعے کے بعد اس نے راتوں کو شب بیداری شروع کی۔ ممکن ہے کہ اس واقعے کا اثر تمام جانداروں کی طرح الّو پر بھی ہوا ہو، لیکن جیسا کہ روایت میں بتایا گيا ویسا درایتا ممکن نہیں۔ محض روایت کو نقل کرنے میں حرج نہیں لیکن اس کو قبول کرنے میں سند اور متن دونوں کو مدّنظر رکھنا چاھئے، اگر حقائق سے ہٹ کر روایات کو بیان کریں گے تو اغیار ہمارا ہی تمسخر اڑائیں گے۔


الّو کوئی جدید پرندہ نہیں ہے، بلکہ علم حیوانات *Zoology* میں اس پر کافی تحقیقات ہوئی ہیں، بلکہ اس پر کتابیں، تحقیقات اور آرٹیکلز بھی لکھے گئے ہیں۔ الّو کی قدیم یونان میں بہت اہمیت تھی، یونانیوں کی عقل و دانش یعنی ٭Wisdom* کی دیوی*Athena* کا تعلّق الّو سے بتایا جاتا تھا۔ آپ گوگل کریں گے تو بہت کچھ آپ کو الّو کے تاریخی کردار خصوصا یونانیوں کے ہاں ملے گا۔

ان لنکس کا مشاہدہ کریں؛


In the mythology of ancient Greece, Athene, the Goddess of Wisdom, was so impressed by the great eyes and solemn appearance of the Owl that, having banished the mischievous crow, she honoured the night bird by making him her favourite among feathered creatures.

Cynthia Berger theorizes about the appeal of some characteristics of owls —such as their ability to see in the dark— to be used as symbol of wisdom

اور یہ لیجئے الّو پر ایک مستقل کتاب ٭Minerva's owl wisdom٭ کا مطالعہ کریں، اس میں الّو کی قدیم معاشروں میں تاریخ تفصیل سے موجود ہے۔


اگر گوگل امیج میں جا کر سرچ کریں تو آپ کو الّو عینک لگائے، کتاب ہاتھ میں اٹھائے یا پڑھتا ہوا، یا پھر اسکالرز کی ٹوپی لگائے نظر آئے گا؛


میرا جہاں تک مطالعہ ہے وہ یہی ہے کہ الّو قدیم جاپان، یونان، افریقہ اور امریکہ میں جنگل میں رہتا تھا جہاں سے اس کا شکار ہوتا تھا۔ تاریخ میں کہیں پر بھی نہیں ملتا کہ الّو کبھی انسانوں کے ساتھ رہتا ہو اور آبادیوں میں رہتا ہو۔۔۔ اس کو جادوگر اپنے جادو میں استعمال کرتے تھے اور عموما جنگلوں سے پکڑ کر قید کر لیتے تھے۔ یہ شروع سے ہی رات کے پرندے کے نام سے مشہور ہے۔ چمگادڑ اور الّو تاریخی طور پر رات کے پرندے ہیں

ممکن ہے کہ اس واقعے کا اثر تمام جانداروں کی طرح الّو پر بھی ہوا ہو، لیکن جیسا کہ روایت میں بتایا گيا ویسا درایتا ممکن نہیں۔ محض روایت کو نقل کرنے میں حرج نہیں لیکن اس کو قبول کرنے میں سند اور متن دونوں کو مدّنظر رکھنا چاھئے، اگر حقائق سے ہٹ کر روایات کو بیان کریں گے تو اغیار ہمارا ہی تمسخر اڑائیں گے۔ بقول آیت اللہ تقی شوشتری، رسوا ترین روایت وہ ہے جس کو مسلّمہ تاریخ جھٹلا دے (الاخبار الدّخیلہ)


خاکسار: ابوزین الہاشمی

نوحے خوانی کی صنعت اور کمرشل ازم

٭نوحے خوانی کی صنعت اور کمرشل ازم٭

امام حسین(ع) پر گریہ اور ان کے مصائب پر مشتمل اشعار پڑھ کر ہاتھ سینے پر اٹھانا افضل قربات میں سے ہے اور یہی علماء و اسلاف کی سیرت رہی ہے۔ ہمیشہ سے علماء کی زیر سرپرستی نوجوان نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے اجتماعات منعقد کرتے تھے اور کئی جگہوں پر علماء کرام نے خود مرثیے اور نوحے لکھے۔

آج کل دولت کی ریل پیل کی وجہ سے نوحہ خوانی باقاعدہ ایک صنعت کا رخ اختیار کر گئی ہے۔ جـگہ جگہ البم نکالے جاتے ہیں اور میوزک کی دھنوں پر باقاعدہ نوحے کی دھن ترتیب دی جاتی ہے۔ نوحہ خوان حضرات پہلے "دھن" سوچتے ہیں اور اس دھن کو موسیقی کے آلات پر باقاعدہ تشکیل دی جاتی ہے اور پھر شعراء کو دیا جاتا ہے جو ان دھنوں کے مطابق شاعری کرتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوحہ خوان حضرات کی تمام تر توجّہ دھن کی کامیابی پر ہوتی ہے اور رقّت و صحیح واقعات کے ابلاغ کو ثانوی اہمیت دی جاتی ہے۔

اس کے بعد جب یہ نوحہ تیّار ہوتا ہے تو *Beats* کی شکل میں سینہ زنی کی آواز کو جھنکار کی صورت میں نوحے میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس سے ایک مخصوص آواز نکلتی ہے جو نوحے کو بہت خوبصورت بنا دیتی ہے۔


پھر جب یہ البم تیّار ہو کر آتے ہیں تو سامعین کے افعال ملاحظہ کیجئے۔ اکثر لوگ نوحے اس لئے لگاتے ہیں کہ پہلے گانے سنتے تھے اب ایاّم عزا ہیں تو سماعتوں پر خوشگوار اثر ڈالنے کے لئے نوحے لگائے جاتے ہیں، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اکثر اوقات نوحے چل رہے ہوتے ہیں اور سامعین باہم دنیاوی امور پر گفتگو کرتے ہیں یا پھر ہنسی مذاق کر رہے ہوتے ہیں اور بہت کم ہوتے ہیں جو نوحے کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا نوحے کا کوئی احترام ہی نہیں، اور احترام بھلے کیسے ہو سکتا ہے جب خود نوحہ خوان مندرجہ بالا انداز میں نوحے بناتے ہیں جو بلاشبہ ذکر حسین(ع) کی بے ادبی ہے۔

بہت سے احباب گاڑیوں میں ڈیک پر بلند آواز سے نوحے چلاتے ہیں تاکہ گردو پیش لوگ متوجہ ہوں کہ کسی مولائی کی گاڑی ہے اور اندر بھی خلوص کا فقدان ہوتا ہے۔ بہت سے شاید ایسے بھی ہیں جو نوحے میں سینہ زنی پر مشتمل جھنکار *Beat* کے ساتھ ساتھ پیر زمین پر پٹختے ہیں۔

اور پھر بعض نوحے خوان حضرات کی طرف سے نوحے کی محافل میں پڑھنے کے لئے گرانقدر پیسوں کا مطالبہ یا ملک سے باہر جانے کے لئے فائیو اسٹار ہوٹل میں رہنے کا مطالبہ بھی مشہور ہے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے وہ نوحہ خوانی جو کبھی خلوص سے مرقّع ہوتی تھی اب صرف ظاہری رسم بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے ان چیزوں کی طرف اشارہ نہیں کیا جہاں بعض نوحہ خوان غلط عقائد پڑھتے ہیں یا پھر غلط اور جعلی مصائب۔

ہماری ان باتوں کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں ہے، اور نہ ہم سینہ زنی اور نوحہ خوانی کے خلاف ہیں، لیکن خدارا آپ ہی انصاف سے بتائیے کہ نوحہ خوانی کے نام پر ہم کیا ذکر حسین(ع) کی توہین نہیں کر رہے؟

مقصد صرف یہ ہے کہ نوحہ خوانی میں مندرجہ بالا قابل اعتراض باتوں کو نکال کر اس کو صاف شفّاف بنائیں تاکہ یہ خلوص اور سینہ زنی ہمیں اللہ تعالی اور معصومین(ع) کے نزدیک کر دے۔

والسّلام


خاکسار: ابو زین الہاشمی

تحریک تحفظ عقائد شیعہ

قاتلان حسین(ع) کا مذہب

٭قاتلان حسین(ع) کا مذہب٭

اکثر دشمنان تشیّع یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ خود شعوں نے امام حسین(ع) کو قتل کیا، یہ نادان اس لئے یہ تاثر دیتے ہیں کیونکہ شیعوں نے ہی بعد میں توّابین کے نام سے تحریک چلائی۔ آئیے ہم خود فوج یزید کا عقیدہ انہی کی زبانی سنتے ہیں:

1) ابن زیاد (ملعون) نے عمر بن سعد(ملعون) کو خط لکھا کہ حسین(ع) اور ان کے اصحاب پر پانی بند کر دو تاکہ پانی کا ایک قطرہ بھی ان تک نہ پہنچے جیسا کہ مظلوم خلیفہ عثمان بن عفان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 ص412)

2) فوج حسین(ع) سے حضرت نافع بن ہلال (ر) نے میدان جنگ میں قدم رکھا اور رجز پڑھا اور کہا: میں علی(ع) کے دین کا عقیدہ رکھتا ہوں۔ ابن زیاد کی فوج سے مزاحم بن حریث (ملعون) ان سے مقابلہ کرنے نکلا اور نافع(ر) کے جواب میں کہا: میں عثمان کے دین کا معتقد ہوں۔

(تاریخ طبری: ج4 ص 33، الارشاد: جلد 2 ص103)

3)یزید بن معقل (ملعون) نے امام حسین(ع) کے ساتھی بریر بن خضیر (ر) سے کہا کہ دیکھ رہے ہو اللہ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟

بریر (ر) نے جواب دیا کہ اللہ نے میرے لئے جو کچھ قرار دیا ہے وہ سعادت و خوشبختی ہے اور جو کچھ تمہارے ساتھ پیش آرہا ہے وہ شقاوت و بدبختی ہے۔

یزید بن معقل نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو! تجھے وہ وقت یاد ہے جب تم قبیلہ بنی لوذان میں جھوٹی باتیں حضرت عثمان کو کہتے تھے اور معاویہ کو گمراہ اور گمراہ کرنے والا کہتے تھے؟

بریر(ر) نے کا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرا عقیدہ یہی ہے جو تو کہہ رہا ہے۔

یزید بن معقل نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو گمراہ افراد میں سے ہے۔

بریر(ر) نے کہا: کیا تو مباہلہ کرنے پر تیار ہے اور پھر ہم لڑیں؟

یزید بن معقل نے قبول کیا اور پھر دونوں نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور جھوٹے پر لعنت کی اور دعا کی کہ جو حق پر ہے اسے باطل پر غلبہ عطا فرما، پھر دونوں میں لڑائی ہوئی اور بریر(ر) نے یزید بن معقل (لعین) کو قتل کر دیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 4 ص66)

4) جب اسیران کربلا واپس مدینہ آئے تو بنی ہاشم کی خواتین گریہ و زاری کرنے لگیں۔ راوی کہتا ہے کہ میں اس وقت عمرو بن سعید اشدق (لعین) کے پاس گیا، عمرو اس منظر کو دیکھ کر ہنسا اور کہا: ھذا واعیۃ بواعیۃ عثمان بن عفّان، یعنی یہ عزا عثمان بن عفان کی مصیبت کے مقابلے میں ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 4 ص357)

پس ثابت یہ ہوا کہ فوج یزید کی اکثریت ناصبی تھی یا کم سے کم شیعہ نہیں تھی۔ ابن زیاد بھی عثمانی تھا اور عمر بن سعد بھی عثمانی تھا، اور تمام ملاعین فوج یزید ناصبی تھے۔

خاکپائے اہل بیت(ع): ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

عزاداری امام حسین(ع) قدیم ایّام میں

٭عزاداری امام حسین(ع) قدیم ایّام میں٭

ہم یہاں کچھ قدیم منابع پر روشنی ڈالیں گے جن کے مطابق عزاداری کی محافل کا انعقاد شروع سے ہی رہا ہے۔ ہم یہاں معصومین(ع) کی طرف سے عزاداری کی مجالس کی طرف اشارہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ اکثر بیان کی جاتی ہیں، لیکن مروّجہ انداز میں جلوس نکالنے اور ماتم کرنے کی روش پر گفتگو کریں گے۔

ابتدا میں ہم بتائیں گے کہ بنو امیّہ کی طرف سے عاشورا کس طرح سے منایا جاتا تھا۔ مشہور مؤرخ ابو ریحان البیرونی لکھتے ہیں؛

"بنو امیّہ اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور تزئین و آرائش کرتے تھے، سرمہ آنکھوں میں لگاتے تھے، عید مناتے تھے اور خوشبوجات کا استعمال کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے تھے اور کھانا کھلاتے تھے، جب تک ان کا اقتدار رہا عام لوگوں میں بھی یہ رسم موجود تھی۔" (آثار الباقیہ از البیرونی، ص576)

اسی سے اندازہ لگا لیں کہ آجکل یہ حرکتیں کرنے والے بنو امیّہ سے روحانی تعلّق رکھتے ہیں۔ اسی کی طرف زیارت عاشوراء میں اشارہ ہے "ھذا یوم فرحت بہ آل زیاد و آل مروان بقتلھم الحسین صلوات اللہ علیہ۔" یعنی یہ وہ دن ہے جب آل زیاد اور آل مروان نے امام حسین(ع) کے قتل کی خوشی منائی۔

البتہ محباّن اہل بیت(ع) کے لئے یہ جانگداز واقعہ ان کی زندگیوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا جس کو وہ کبھی فراموش نہ کر سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدّت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھا گیا، محبّان اہل بیت(ع)نے ہمیشہ غم منا کر ہی محرّم گزارا۔ مؤرخ طبری کی روایت کے مطاق جب سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں سن65 ہجری میں توابین کی تحریک شروع ہوئی تو پہلے سب لوگ کربلا امام حسین(ع) کی قبر مبارک پر گئے اور ایک دن اور رات مسلسل گریہ و زاری کرتے رہے۔ طبری کے بقول کسی نے اس طرح کا گریہ آج تک نہیں دیکھا تھا۔

مشہور شیعہ محدّث ابن قولویہ لکھتے ہیں کہ امام صادق(ع) کے دور میں کوفہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے لوگ امام حسین(ع) کی زیارت کو جاتے تھے جہاں وہ قرآن پڑھتے، مصائب پڑھنے کے ساتھ ساتھ نوحہ خوانی و مرثیہ خوانی کرتے تھے۔ (لؤلؤ و مرجان از محدّث نوری، ص4)

یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ متوکّل کے دور میں امام حسین(ع) کی قبر مبارک اور اطراف پر پانی چھوڑا گيا اور یہاں کاشتکاری کی گئی۔ متوکّل ملعون کے بعد زائرین و عزاداری کا یہ سلسلہ پھر سے شروع ہوا۔

لوگوں کا جمع انبوہ امام حسین(ع) کی زیارت کے لئے کربلا جاتا رہا۔ تاریخی منابع میں ہمیں ملتا ہے کہ احمد بن حنبل کے کچھ پیروکار جو اپنے آپ کو "سلفیہ" کہتے تھے، کربلا کے راستے میں کمین گاہیں لگاتے تھے اور شیعہ زائرین و عزاداروں کو اذیّت کرتے تھے۔ (تاریخ ابن اثیر، حوادث سنہ 323)۔

جب 332 ہجری میں آل بویہ خاندان کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا اور عملی طور پر ان کی حکومت قائم ہوئی تو عزاداری کو ایک نئی جہت ملی۔ یاد رہے کہ آل بویہ خاندان شیعہ تھا۔ مؤرخ ابن اثیر سنہ 352 قمری کے حوادث میں لکھتے ہیں "عاشوراء والے دن معزالدّولہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس دن تمام دکانیں اور دفاتر بند رہیں گی اور چھٹی کا اعلان کیا، حکم دیا کہ عزاداری کریں اور مخصوص سیاہ قبا پہنیں گریبان چاک کریں، عورتیں اپنے بالوں کو پریشان کریں، اور شہر (بغداد) میں سڑکوں پر گھومیں۔ اپنے سر، چہرے اور سینہ پر ماتم کریں اور یا حسین! کا نعرہ لگائیں۔ تمام لوگوں نے ایسا ہی کیا اور سنّیوں نے بھی اعتراض نہیں کیا۔ کسی کو منع کرنے کی جرات نہیں ہوئی کیونکہ شہر میں شیعوں کی تعداد زیادہ تھا اور سلطان بھی ان کے ساتھ تھا۔"

یہاں یہ اشارہ دلچسپ ہوگا کہ یہ غیبت کبری کے اوائل کی بات ہے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آل بویہ خاندان کو عروج حاصل تھا، جب یہ خاندان کمزور ہوا تب بھی یہ مراسم کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعوں کی دیکھا دیکھی سنّیوں نے بھی ایسے جلوس نکالنے شروع کیے۔ مؤرخ ابن اثیر اپنی تاریخ میں سنہ 389 ہجری کے حوادث میں لکھتا ہے؛

"بغداد میں باب البصرہ (جہاں سنّی زیادہ تھے) والوں نے کرخ (جہاں شیعہ زیادہ تھے) کے مقابلے میں عاشوراء کے آٹھ دن بعد عزاداری شروع کی کیونکہ اس دن مصعب بن زبیر کو قتل کیا گيا تھا۔"

شبیہ سازی کی ابتدا بھی اہل سنّت نے شروع کی چنانچہ مؤرخ ابن اثیر سنہ 363 ہجری کے حوادث میں لکھتے ہیں؛ "شیعہ اور سنّی کے درمیان ایک عظیم فتنہ شروع ہوا، سوق الطعام کے محلّے میں جہاں اکثریت سنّی تھی، ایک عورت کو اونٹ پر سوار کیا اور اس کا نام عائشہ رکھا۔ ان میں سے ایک نے خود کو طلحہ کہا اور دوسرے نے زبیر، یہ گروہ دوسرے گروہ (شیعوں) کے مقابلے میں جنگ پر روانہ ہوا اور اعلان کیا کہ ہم "علی ابن ابیطالب" کے اصحاب سے جنگ لڑیں گے۔"

بہرکیف مراسم عزاداری اسی طرح سے قائم رہے، عبدالجلیل قزوینی کی تحریروں سے استفادہ ہوتا ہے کہ امام حسین(ع) پر یہ گریہ و ماتم نہ صرف شیعوں میں برقرار تھا بلکہ کئی سنّی علماء بھی یہ مراسم مناتے تھے۔ خراسان میں شیعہ سنّی سب مل کر عزاداری کا انعقاد کرتے تھے جس کا خاص اہتمام وہاں کے سنّی امراء کرتے تھے۔ صفویوں کے دور اقتدار سے پہلے ایک خراسانی سنّی شاعر و مصنّف نے امام حسین(ع) کے فضائل، مصائب اور عزاداری کے ثواب پر ایک کتاب "روضۃ الشہداء" لکھی جو بعد میں صفوی دور میں بہت مشہور ہوئی۔ ذاکرین اسی کتاب سے مصائب پڑھتے تھے اور یہ سلسلہ ایسا رائج ہوا کہ ایران میں اب بھی مصائب پڑھنے کو "روضہ خوانی" کہتے ہیں یعنی روضۃ الشہداء پڑھنا، کیونکہ ذاکرین منبر پر اسی کتاب کو لے کر مصائب پڑھتے تھے۔ گو کہ روضۃ الشہداء میں بہت علمی محدودیت تھی اور بعد میں رائج ہونے والے بہت سے واقعات کربلا میں روضۃ الشہداء کا کردار رہا ہے لیکن اس کے اثر و نفوذ سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اگر اللہ نے توفیق دی تو کبھی صفوی دور میں رائج عزاداری کی رسومات پر تحریر لکھیں گے۔


والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ


خاکپائے اہل بیت(ع): ابو زین الہاشمی

شیخ مفید (رض) اور نظریۂ ولایت فقیہ

٭شیخ مفید(رض) اور ولایت فقیہ٭

اکثر ولایت فقیہ کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ نظریہ امام خمینی(رض) نے سب سے پہلے دیا اور ان سے پہلے کسی بھی شیعہ مرجع یا عالم نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ یہ باتیں ان کی جہالت پر دلالت کرتی ہیں اور محض عوام کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ مسئلہ ولایت فقیہ غیبت کبری کے بعد فقہائے شیعہ کے درمیان ایک اہم موضوع رہا ہے۔ انشاء اللہ ہم اپنے دیگر سلسلوں کے ساتھ مسئلہ ولایت فقیہ پر بھی لکھنے کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ ابتدا میں ہم رئیس المذھب الشیعہ شیخ مفید رضی اللہ عنہ کی آراء اس حوالے سے لکھ رہے ہیں۔


شیخ مفید اپنی مشہور کتاب المقنعہ میں لکھتے ہیں؛

فأما إقامة الحدود فهو إلى سلطان الإسلام المنصوب من قبل الله تعالى و هم أئمة الهدى من آل محمد ع و من نصبوه لذلك من الأمراء و الحكام و قد فوضوا النظر فيه إلى فقهاء شيعتهم مع الإمكان

"حدود کو قائم کرنا اسلامی حاکم سے مربوط ہے جو اللہ کی طرف سے منصوب و منصوص ہو، اور یہ آل محمد میں سے ہمارے آئمہ ھدی (علیھم السلام) ہیں، یا وہ ہیں جن کو (ہمارے آئمہ) بطور امیر و حاکم نصب کریں۔ یہ اختیار (غیبت کبری میں) شیعہ فقہاء کو تفویض کیا جا چکا ہے بشرطیکہ یہ ذمّہ داری پوری کرنا فقہاء کے لئے ممکن ہو۔"

(المقنعہ: ص810)

واضح ہے کہ شیخ مفید(رض) یہاں تمام احکامات جو سلطان عادل سے مربوط ہیں، غیبت کبری میں فقہائے شیعہ کو تفویض ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ حالات فقہائے شیعہ کے لئے سازگار ہوں۔ جس زمانے میں اقتدار شیعوں کے پاس نہیں اور سلطان جائر کے پاس ہے تو ظاہر ہے یہ شیعہ فقہاء کے لئے ممکن نہ ہوگا، لیکن اب الحمدللہ حکومت اسلامی قائم ہو چکی ہے تو ایک عادل فقیہ یہ تمام ذمہ داریاں سنبھالے گا۔

شیخ مفید ایک اور جگہ وصیّت کے باب میں فرماتے ہیں؛

و إذا عدم السلطان العادل فيما ذكرناه من هذه الأبواب كان لفقهاء أهل الحق العدول من ذوي الرأي و العقل و الفضل أن يتولوا ما تولاه السلطان فإن لم يتمكنوا من ذلك فلا تبعة عليهم فيه و بالله التوفيق

"جب سلطان عادل (امام معصوم) موجود نہ ہو تو جیسا کہ ہم نے ان ابواب میں ذکر کیا، سلطان عادل (امام معصوم) کے امور اور ان کی ذمّہ داریاں وہ اہل حق اور عادل فقہاء اٹھائیں گے جو عاقل و فاضل ہوں۔ اور جب ان (فقہاء) کے لئے یہ مناصب اٹھانا ممکن نہ ہو تو ان پر کوئی ذمہ داری نہیں۔"

(المقنعہ: ص676)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام معصوم(ع) کی غیبت کے دوران بصورت امکان فقہائے شیعہ کی ذمہ داری ہے کہ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں تاکہ عدالت و انصاف قائم رہے۔ جب ان فقہاء کے لئے یہ ممکن نہیں ہو تو ان پر ذمہ داری نہ ہوگی لیکن جب فقہائے عادل زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکیں تو امام معصوم(ع) کے تمام عہدے وہی اٹھائیں گے۔

ہم درود و سلام بھیجتے ہیں امام الخمینی(رض) پر جنہوں نے قیام کر کے شیخ مفید کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا۔


والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ


العبد: ابو زین الہاشمی

اولاد کی اجداد سے شباہت

٭اولاد کی اجداد سے شباہت٭


أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقاً جَمَعَ كُلَّ صُورَةٍ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ أَبِيهِ إِلَى آدَمَ ثُمَّ خَلَقَهُ عَلَى صُورَةِ أَحَدِهِمْ فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدٌ هَذَا لَا يُشْبِهُنِي وَ لَا يُشْبِهُ شَيْئاً مِنْ آبَائِي

امام جعفر صادق(ع): "جب اللہ تبارک و تعالی کسی انسان کو خلق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے والد اور آدم(ع) تک تمام آباء و اجداد کی صورتوں کو جمع کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کو ان میں سے کسی کی بھی صورت پر خلق کرتا ہے۔ لہذا تم میں سے کوئی (اپنی زوجہ کے بارے میں بدگمان نہ ہو اور) نہ کہے کہ یہ بچہ مجھ سے نہیں ملتا یا میرے آباء میں سے کسی سے نہیں ملتا (کیونکہ ممکن ہے کہ یہ اس کے اجداد میں سے کسی کی صورت ہو جس کو اس نے کبھی نہ دیکھا ہو)۔"

(علل الشرائع: جلد1 ص103 باب 93)



رجال الحدیث:

شیخ صدوق نے یہ روایت اپنے والد "ابن بابویہ قمّی" سے نقل کی جو ثقہ و جلیل القدر ہیں۔ انہوں نے اپنے شیخ احمد ابن ادریس القمّی سے نقل کیا جو ثقہ ہیں اور جن سے 2826 احادیث کتب اربعہ میں منقول ہیں، پس کثیر الرّوایہ ہیں۔ انہوں نے محمد بن حسین بن ابی الخطاب سے روایت کی جو شیخ نجاشی کے بقول جلیل القدر، کثر الرّوایہ اور مورد اطمینان ہیں۔ انہوں نے جعفر بن بشیر سے نقل کیا جو ثقہ ہیں، لیکن جعفر بن بشیر نے یہ روایت ارسال کے ساتھ امام صادق(ع) سے نقل کی۔۔۔ یہاں "رجل" کا لفظ استعمال ہوا اور رجل کون ہے یہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ جعفر بن بشیر نے ثقات سے بھی نقل حدیث کیا اور غیر ثقات سے بھی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہاں "رجل" ثقہ ہے یا نہیں۔ لہذا اس میں ارسال پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کسی راوی کا سہو ہو کہ وہ یہاں پر جعفر بن بشیر اور امام صادق(ع) کے درمیان واسطے کو بھول گیا۔

درایۃ الحدیث:

مروّجہ اصطلاحات کے مطابق یہ روایت "مرسل" کہلائے گی۔ لیکن جیسا کہ ہم بہت دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ ہم سند کے ساتھ ساتھ دیگر قرائن کو بھی دیکھتے ہیں اور وثوق صدوری کے قائل ہیں۔ جب اس روایت پر غور کرتے ہیں تو اس کے تمام روات اجلاّء و ثقات سے مروی ہیں، جس سے وثوق بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جب اس روایت کے مضمون اور اس کے متن میں غور کرتے ہیں تو یہ یقین مزید بڑھ جاتا ہے۔

جدید سائنس نے اس بات کی تائید کی ہے کہ اولاد اپنے پدری و مادری اجداد میں سے کسی پر بھی جا سکتا ہے۔ *Genetic Science* ایک باقاعدہ علم ہے جس میں جینیات پر بات کی جاتی ہے، لہذا یہ ایک سائنسی اصول ہے جس کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔

یہ حدیث نہ صرف یہ کہ مورد قبول ہے بلکہ ہمارے لئے افتخار کا باعث ہے کہ جس چیز پر آج جدید سائنس برسوں کی محنت اور ہزاروں محققّین کی تحقیقات سے پہنچے، وہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے مولا و آقا امام جعفر صادق(ع) بتا چکے ہیں اور بیان کر چکے ہیں۔ اس بات سے ہمارا ہمارے آئمہ(ع) اور ان کے علوم لدنّی پر ایمان بڑھ جاتا ہے، لہذا ایسی روایتوں کی اسناد میں کوئی اشکال بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم محمد و آل محمد(ص) کی تعلیمات کو بہتر انداز میں سمجھیں اور دعا ہے کہ ان کی محبّت و ولایت کو ہمارے دلوں میں مزید پختہ کرے۔

والسّلام علی من اتبع الھدی


العبد: ابو زین الہاشمی

Monday, January 6, 2014

حدیث کساء کی اسناد کا ایک تحقیقی جائزہ

"حدیث کساء کی اسناد کا ایک تحقیقی جائزہ"

تمھید :

حدیث کساء اصطلاح میں اس حدیث شریف کو کہتے ہیں جو شیعہ سنّی کتب میں تواتر تک پہنچی ہوئی ہے اور جس میں حضرت محمد مصطفی(ص) ایک کساء یعنی چادر میں مولا علی، فاطمہ، حسن و حسین (علیہم السلام) کو جمع کرتے ہیں اور پھر آیۂ تطہیر٭انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہّرکم تطہیرا٭ (احزاب:33) نازل ہوئی۔

جہاں تک اس واقعے کا تعلق ہے تو یہ یقینا ھوا اور اہل سنّت کے منابع سے بھی ثابت ہے۔ ذیل میں ان کچھ سنّی کتب کا تذکرہ ہے 
جہاں اس واقعے کا ذکر ہوا ہے؛

صحیح مسلم : 4 / 1883 ، حدیث : 2424 ، طبعة : بیروت / لبنان
أحمد بن حنبل : المسند : 6 / 292 ، طبع بیروت .
ابن الأثیر : أسد الغابة : 7 / 343 طبع بیروت
ابن المغازلی الشافعی : المناقب : 100 ، طبع بیروت .
ابن حجر : الإصابة : 4 / 568 ، طبع بیروت .
ابن حجر : الصواعق المحرقة : 143 ، طبع القاهرة .
ابن كثیر : تفسیر القرآن العظیم : 3 / 493 ، طبع بیروت .

اگر شمار کرنے پر آئیں تو ایسے منابع بہت ہیں جو ان احادیث کے صحیح ھونے پر اور شہرت پر دلالت کرتی ہیں اور ہم انہی پر اکتفا 
کرتے ہیں کیونکہ یہ ھمارے موضوع سے خارج ہے۔


اس حدیث کساء کا بیان جس کو خاص الفاظ کے ساتھ عموما پڑھا جاتا ھے

وہ حدیث کساء جو جابر بن عبداللہ انصاری(ر) سے مروی ھے اور جناب فاطمہ(ع) اس واقعے کو نقل کرتی ہیں، وہ کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ھے اور ثابت نہ ھونے کی صورت میں اس کو ان ذوات مقدّسہ سے منسوب کرنا اور اس پر اعتقاد رکھنا جائز نہیں ھے۔ یہ حدیث کساء جو ھمارے ہاں رائج ہے یہ مفاتیح الجنان کے ضمیمہ جات میں مرقوم ھے اور اس حدیث کو شیخ عبداللہ بحرانی 
کی کتاب "عوالم العلوم" سے لیا گیا ھے۔


اس روایت کا سلسلۂ سند کچھ یوں ہے؛

رأيت بخطِّ الشيخ الجليل السيّد هاشم، عن شيخه السيّد ماجد البحراني، عن الحسن بن زين الدين الشّهيد الثاني، عن شيخه المقدس الأردبيلي، عن شيخه علي بن عبدالعالي الكركي، عن الشيخ علي بن هلال الجزائري، عن الشيخ أحمد بن فهد الحلّي، عن الشيخ علي بن الخازن الحائري، عن الشيخ ضياء الدين علي بن الشّهيد الأوّل، عن أبيه، عن فخر المحققين، عن شيخه ووالده العلامة الحلّي، عن شيخه المحقق، ابن نما الحلّي، عن شيخه محمّد بن إدريس الحلّي، عن ابن حمزة الطوسي صاحب ثاقب المناقب، عن الشيخ الجليل محمّد بن شهرآشوب، عن الطبرسي صاحب الاحتجاج، عن شيخه الجليل الحسن بن محمّد بن الحسن الطوسي، عن أبيه شيخ الطائفه، عن شيخه المفيد، عن شيخه ابن قولويه القمي، عن شيخه الكليني، عن علي بن إبراهيم، عن أبيه إبراهيم بن هاشم، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطي، عن قاسم بن يحيي الجلاّء الكوفي، عن أبي بصير، عن أبان بن تغلب البكري، عن جابر بن يزيد الجعفي، عن جابر بن عبداللّه الأنصاري، عن فاطمة الزهراء بنت رسول اللّه صلّى اللّه عليه وآله


٭عوالم العلوم ج11 ص638، شرح احقاق الحق ج 2 ص 554٭


سلسلۂ سند آپ نے ملاحظہ کیا، اب اس پر درج ذیل اشکالات وارد ہوتے ہیں؛


1) یہ سلسلۂ سند اپنی جگہ بالکل انوکھا ہے، اس میں شیخ عبداللہ بحرانی اس روایت کو کئی علمائے شیعہ سے نقل کرتے ہیں۔ جن میں سیّد ھاشم بحرانی، سیّد ماجد بحرانی، شہید ثانی، مقدّس اردبیلی، شیخ جزائری، ابن فہد حلّی، شہید اوّل، فخر المحققین، علاّّمہ حلّی، ابن نما حلّی، ابن ادریس حلّی، ابن حمزہ طوسی، ابن شھر آشوب، علامہ طبرسی، شیخ طوسی، شیخ مفید، ابن قولویہ اور شیخ کلینی جیسے بزرگ شامل ہیں۔ قابل تعجّب بات یہ ھے کہ ان بزرگ شیعہ علماء میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتب میں جگہ نہیں دی۔ نہایت حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس حدیث کو یہ بزرگ سینہ بسینہ نقل کرتے رہے اس 
حدیث کو ان میں سے کسی بھی بزرگ نے اپنی کتب میں جگہ نہیں دی۔

جو لوگ اس حدیث کی اسناد کو معتبر سمجھتے ہیں وہ عموما ایک یا دو بزرگ کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ وہ ھر سنی ہوئی حدیث کو رشتۂ تحریر میں لے آئیں، لیکن ان سے میرا سوال یہ ہے کہ یہاں ایک یا دو بزرگ کی بات نہیں ھو رہی بلکہ دس سے زیادہ بزرگوں کا ذکر ہے اور ان میں ھر کوئی صاحب تصنیف رہا ہے اور کئی لوگوں نے تو تصنیفات کے انبار لگائے ہیں۔ ایسا 
اتفاق کیسے ھو سکتا ھے کہ یہ حدیث کسی بھی بزرگ کے قلم کے دل میں جگہ نہ بنا سکی؟

یہ بہرحال ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ھے۔


2) آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی تحقیق کے مطابق یہ روایت اصل کتاب "عوالم العلوم" میں موجود نہیں ھے۔ ایران کے شہر یزد کے سرکاری کتب خانے میں عوالم العلوم کا اصلی نسخہ خود شیخ عبداللہ بحرانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا موجود ھے جس میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی حفظہ اللہ کے مطابق یہ روایت اصل کتاب میں نہیں بلکہ حاشیے پر موجود ہے۔ اور اس حاشیے پر موجود خط (رائیٹنگ) شیخ عبداللہ بحرانی کے خط سے مختلف ہے اور بخوبی روشن ہوتا ھے کہ یہ روایت بعد میں عوالم العلوم میں شامل کی گئی ہے۔ تفصیلات کے لئے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی (اعلی اللہ مقامہ) کی کتاب مفاتیح نوین کے صفحہ 1165 کی طرف رجوع کریں۔


3) اس سلسلۂ سند میں کچھ افراد ایک دوسرے سے اسّی 80 سال تک کا فاصلہ بھی رکھتے ہیں اور اس لمبے فاصلے میں ان کا ایک دوسرے سے ملاقات اور حدیث کا سماع ممکن ہی نہیں۔


4) عوالم العلوم سے پہلے یہ روایت کسی بھی معتبر کتاب میں نقل نہیں کی گئی۔ شیخ عبداللہ بحرانی نے کم و بیش علامہ مجلسی کے دور میں یا اس کے بعد عوالم العلوم لکھی تھی۔ مفاتیح الجنان کے مصنّف شیخ عبّاس قمی اور آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی تحقیق کے مطابق یہ روایت عوالم العلوم سے پہلے صرف "منتخب طریحی" میں نقلی ہوئی اور اس میں بھی بغیر کسی سند کے۔ چنانچہ شیخ عبّاس قمی فرماتے ہیں؛

حدیث معروف به حدیث کساء که در زمان ما شایع است باین کیفیت در کتب معتبره معروفه و اصول حدیث و مجامع متقنه محدثین دیده نشدہ

معتبر اور معروف کتابوں میں اور اصول حدیث میں اس کیفیت کے ساتھ جس طرح سے حدیث کساء ھمارے زمانے میں مروّج ہے، اس کو میں نے کسی بھی مجموعۂ حدیث میں نہیں دیکھا۔

٭منتہی الآمال، ص527٭


اگر عوالم العلوم سے پہلے بھی کسی شاذ کتاب میں اگر ملی بھی ہے تو بغیر کسی سند کے ساتھ جس طرح سے منتخب طریحی میں درج ہے۔


5) اس سلسلۂ حدیث میں قاسم ابن یحیی جلاء کوفی ہے جس کا کوئی ذکر رجال کی کتب میں نہیں، لہذا یہ راوی مجہول ہے اور یہ سند درجۂ اعتبار سے ساقط ہے۔ حدیث کساء کے حامی حضرات یہ کہہ کر اس داغ کو دھونے کی کوشش کرتے ہیں کہ قاسم بن یحیی جلاء کوفی سے مراد یہاں قاسم بن یحیی بن حسن بن راشد ہے جس کا ذکر کتب رجال میں ملتا ھے۔ لیکن اگر آپ یہاں پر قاسم بن یحیی بن حسن بن راشد بھی اگر لے لیتے ہیں تو تب بھی اس کی کوئی خاص توثیق ثابت نہیں ھے بلکہ ابن غضائری نے اس کو ضعیف کہا ہے (رجال ابن غضائری، ص86)۔ علاوہ ازیں علامہ حلی نے اس کو خلاصۃ الاقوال میں اس کو ضعیف کہا ہے۔


6) قاسم بن یحیی جلاء کوفی یہاں پر بغیر کسی واسطے کے ابو بصیر سے نقل کرتا ہے جبکہ دونوں کے زمانے میں ایک پشت کا فاصلہ ہے۔ اس مشکل کو حدیث کساء کے ماننے والے اس طرح رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قاسم بن یحیی اکثر اپنے جد سے روایت کرتا ہے، چنانچہ اگر یہاں واسطہ نہیں لکھا تو مراد یہی ہے کہ انہوں نے اپنے جد کے ذریعے ابوبصیر سے نقل کیا۔ لیکن یہ جواب تب صحیح ہوتا جب قاسم بن یحیی سے تمام روایتیں جد کے ذریعے ہوتیں، لیکن ایسی احادیث بھی ہیں جہاں قاسم بن یحیی اپنے جد کے علاوہ بھی لوگوں سے حدیث نقل کرتے ہیں۔


7) اس سلسلۂ حدیث میں جابر بن یزید جعفی بھی ہیں جن کی وثاقت یا تضعیف علمائے شیعہ میں ہمیشہ اختلافی رہی ہے۔ شیخ نجاشی جابر بن یزید جعفی کو "مختلط" یعنی ضعیف العقیدہ یعنی باطنی تاویلات کرنے والا کہتے ہیں چنانچہ اس کی احادیث قابل اعتماد نہیں سمجھتے۔



آیت اللہ سیّد صادق الشیرازی کا بیان کردہ سلسلۂ اسناد

آیت اللہ صادق الشیرازی نے بھی ایک سلسلۂ سند نقل کیا ھے اور اس طریق کے راوی وہ خود ہیں۔ یہ سلسلہ کچھ یوں ہے؛

ومن جملة طرقي المذكورة ما أروي بها حديث الكساء الشريف فإني أرويه عن والدي عن الشيخ عباس القمي عن الميرزا حسين النوري عن الشيخ مرتضي الأنصـاري عن المولي أحمد النراقي عن السيد بحر العلوم عن الوحيد البهبهـاني عن أبيه الشيخ محمد أكمل عن المولى محمد باقر المجلسي عن أبيه المولى محمد تقي المجلسي عن الشيخ البهائي عن أبيه الشيخ حسين بن عبد الصمد عن الشهيد الثاني عن أحمد بن محمد بن خاتون عن الشيخ عبد العالي الكركي عن علي بن هلال الجزائري عن أحمد بن فهد الحلي عن الشيخ علي بن خازن الحائري عن ضياء الدين علي بن الشهيد الأول عن أبيه محمد بن مكي العاملي عن فخر المحققين عن أبيه العلامة الحلي عن خاله المحقق الحلي عن ابن نما عن محمد بن إدريس الحلي عن ابن حمزة الطوسي عن محمد بن شهر آشوب عن الطبرسي صاحب الإحتجاج عن الحسن بن محمد بن الحسن الطوسي عن أبيه شيخ الطائفة عن الشيخ المفيد عن الشيخ الصدوق عن أبيه عن علي بن إبراهيم (حيلولة) وعن ابن قولويه عن الشيخ الكليني عن علي بن ابراهيم عن أبيه إبراهيم بن هاشم عن أحمد بن محمد بن أبي نصر البزنطي عن القاسم بن يحيي الجلاء الكوفي عن أبي بصير عن أبان بن تغلب عن جابر بن يزيد الجعفي عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضوان الله تعالي عليهم جميعاً عن سيدتنا ومولاتنا الصديقة الكبرى فاطمه الزهراء سلام الله عليها بنت رسول الله صلى الله عليه وآله


اس سلسلہ حدیث میں آیت اللہ صادق الشیرازی نے ان اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے جن میں سرفہرست کچھ راویوں کا آپس میں لمبا وقفہ ہے، لیکن ایک اشکال پھر بھی وارد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شیخ عبّاس قمّی کا نام انہوں نے اس سلسلے میں لیا جبکہ شیخ عباس قمّی اس روایت پر اعتبار نہیں کرتے تھے، جیسا کہ ان کا بیان اوپر گزرا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اس حدیث کساء کو اپنی مشہور کتاب مفاتیح الجنان میں بھی نقل نہیں کیا جبکہ یہ حدیث جس طرح سے شیعہ معاشرے میں رواج پا چکی 
تھی تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو شامل کرتے تاکہ مؤمنین کو پڑھنے میں آسانی ہو۔


بعد کے مفاتیح الجنان کے ناشرین نے اس حدیث کساء کو مفاتیح کے ضمیمہ جات میں شامل کیا جبکہ خود شیخ عباس قمی اپنی 
زندگی میں ہی اس میں کسی چیز کے اضافے کے حامی نہیں تھے۔


آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور دانشگاہ حدیث، تہران کے ڈین جناب آیت اللہ ری شہری صاحب بھی یہ موقف رکھتے تھے کہ حدیث کساء کو شیخ عباس قمی کی کتاب مفاتیح الجنان سے ختم کر دینا چاھئے کیونکہ یہ خیانت ھے کہ ان کی وفات کے بعد ھم ان کی کتاب میں تصرّف کریں۔ جب انہوں نے اس کو نقل کرنے کے قابل نہ سمجھا تو ضمیہ جات کی آڑ میں اس کو شامل کرنے کا کیا فائدہ؟ آیت اللہ ری شہری نے ایران کی وزارت اطلاعات (وزارت ارشاد) کو یہ درخواست کی کہ ناشرین پر اس حدیث کو شامل کرنے پر پابندی لگائی جائے اور موصوف جو کہ خود شاہ عبدالعظیم کے روضے کے متولی ہیں، انہوں نے اس روضے کی مفاتیحوں سے اس روایت کو نکلوا دیا ھے۔



اس کی اسناد ضعیف ہیں تو کیا اس کا پڑھنا جائز ہے؟

وہ حدیث کساء جو ھمارے زمانے میں رائج ہے اور جس کا آج سے کچھ سال پہلے تک کوئی تصوّر نہیں تھا، اس کی اسناد اور اس روایت کا ضعیف ھونا ثابت ھے بلکہ کچھ قرائن سے یہ روایت گڑھی ہوئی لگتی ہے۔ اب اس کا پڑھنا نہ پڑھنا صحیح ھے یا نہیں؟
اس سلسلے میں مجتہدین کی مختلف آراء ہیں، اکثریت بطور رجاء اس روایت کے پڑھنے کو جائز کہتی ھے اور کچھ اس کے پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اس کا آئمہ(ع) سے صادر ہونا ثابت نہیں اور اس صورت میں اس کا پڑھنا آئمہ(ع) پر کذب و افترا کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بہرحال اس معاملے میں اپنے اپنے مراجع سے رجوع کریں۔


تحریر : "ابو زین الھاشمی"
ادارہ : "تحریک تحفظ عقائد شیعہ"