Tuesday, January 7, 2014

عزاداری امام حسین(ع) قدیم ایّام میں

٭عزاداری امام حسین(ع) قدیم ایّام میں٭

ہم یہاں کچھ قدیم منابع پر روشنی ڈالیں گے جن کے مطابق عزاداری کی محافل کا انعقاد شروع سے ہی رہا ہے۔ ہم یہاں معصومین(ع) کی طرف سے عزاداری کی مجالس کی طرف اشارہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ اکثر بیان کی جاتی ہیں، لیکن مروّجہ انداز میں جلوس نکالنے اور ماتم کرنے کی روش پر گفتگو کریں گے۔

ابتدا میں ہم بتائیں گے کہ بنو امیّہ کی طرف سے عاشورا کس طرح سے منایا جاتا تھا۔ مشہور مؤرخ ابو ریحان البیرونی لکھتے ہیں؛

"بنو امیّہ اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور تزئین و آرائش کرتے تھے، سرمہ آنکھوں میں لگاتے تھے، عید مناتے تھے اور خوشبوجات کا استعمال کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے تھے اور کھانا کھلاتے تھے، جب تک ان کا اقتدار رہا عام لوگوں میں بھی یہ رسم موجود تھی۔" (آثار الباقیہ از البیرونی، ص576)

اسی سے اندازہ لگا لیں کہ آجکل یہ حرکتیں کرنے والے بنو امیّہ سے روحانی تعلّق رکھتے ہیں۔ اسی کی طرف زیارت عاشوراء میں اشارہ ہے "ھذا یوم فرحت بہ آل زیاد و آل مروان بقتلھم الحسین صلوات اللہ علیہ۔" یعنی یہ وہ دن ہے جب آل زیاد اور آل مروان نے امام حسین(ع) کے قتل کی خوشی منائی۔

البتہ محباّن اہل بیت(ع) کے لئے یہ جانگداز واقعہ ان کی زندگیوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا جس کو وہ کبھی فراموش نہ کر سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدّت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھا گیا، محبّان اہل بیت(ع)نے ہمیشہ غم منا کر ہی محرّم گزارا۔ مؤرخ طبری کی روایت کے مطاق جب سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں سن65 ہجری میں توابین کی تحریک شروع ہوئی تو پہلے سب لوگ کربلا امام حسین(ع) کی قبر مبارک پر گئے اور ایک دن اور رات مسلسل گریہ و زاری کرتے رہے۔ طبری کے بقول کسی نے اس طرح کا گریہ آج تک نہیں دیکھا تھا۔

مشہور شیعہ محدّث ابن قولویہ لکھتے ہیں کہ امام صادق(ع) کے دور میں کوفہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے لوگ امام حسین(ع) کی زیارت کو جاتے تھے جہاں وہ قرآن پڑھتے، مصائب پڑھنے کے ساتھ ساتھ نوحہ خوانی و مرثیہ خوانی کرتے تھے۔ (لؤلؤ و مرجان از محدّث نوری، ص4)

یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ متوکّل کے دور میں امام حسین(ع) کی قبر مبارک اور اطراف پر پانی چھوڑا گيا اور یہاں کاشتکاری کی گئی۔ متوکّل ملعون کے بعد زائرین و عزاداری کا یہ سلسلہ پھر سے شروع ہوا۔

لوگوں کا جمع انبوہ امام حسین(ع) کی زیارت کے لئے کربلا جاتا رہا۔ تاریخی منابع میں ہمیں ملتا ہے کہ احمد بن حنبل کے کچھ پیروکار جو اپنے آپ کو "سلفیہ" کہتے تھے، کربلا کے راستے میں کمین گاہیں لگاتے تھے اور شیعہ زائرین و عزاداروں کو اذیّت کرتے تھے۔ (تاریخ ابن اثیر، حوادث سنہ 323)۔

جب 332 ہجری میں آل بویہ خاندان کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا اور عملی طور پر ان کی حکومت قائم ہوئی تو عزاداری کو ایک نئی جہت ملی۔ یاد رہے کہ آل بویہ خاندان شیعہ تھا۔ مؤرخ ابن اثیر سنہ 352 قمری کے حوادث میں لکھتے ہیں "عاشوراء والے دن معزالدّولہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس دن تمام دکانیں اور دفاتر بند رہیں گی اور چھٹی کا اعلان کیا، حکم دیا کہ عزاداری کریں اور مخصوص سیاہ قبا پہنیں گریبان چاک کریں، عورتیں اپنے بالوں کو پریشان کریں، اور شہر (بغداد) میں سڑکوں پر گھومیں۔ اپنے سر، چہرے اور سینہ پر ماتم کریں اور یا حسین! کا نعرہ لگائیں۔ تمام لوگوں نے ایسا ہی کیا اور سنّیوں نے بھی اعتراض نہیں کیا۔ کسی کو منع کرنے کی جرات نہیں ہوئی کیونکہ شہر میں شیعوں کی تعداد زیادہ تھا اور سلطان بھی ان کے ساتھ تھا۔"

یہاں یہ اشارہ دلچسپ ہوگا کہ یہ غیبت کبری کے اوائل کی بات ہے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آل بویہ خاندان کو عروج حاصل تھا، جب یہ خاندان کمزور ہوا تب بھی یہ مراسم کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعوں کی دیکھا دیکھی سنّیوں نے بھی ایسے جلوس نکالنے شروع کیے۔ مؤرخ ابن اثیر اپنی تاریخ میں سنہ 389 ہجری کے حوادث میں لکھتا ہے؛

"بغداد میں باب البصرہ (جہاں سنّی زیادہ تھے) والوں نے کرخ (جہاں شیعہ زیادہ تھے) کے مقابلے میں عاشوراء کے آٹھ دن بعد عزاداری شروع کی کیونکہ اس دن مصعب بن زبیر کو قتل کیا گيا تھا۔"

شبیہ سازی کی ابتدا بھی اہل سنّت نے شروع کی چنانچہ مؤرخ ابن اثیر سنہ 363 ہجری کے حوادث میں لکھتے ہیں؛ "شیعہ اور سنّی کے درمیان ایک عظیم فتنہ شروع ہوا، سوق الطعام کے محلّے میں جہاں اکثریت سنّی تھی، ایک عورت کو اونٹ پر سوار کیا اور اس کا نام عائشہ رکھا۔ ان میں سے ایک نے خود کو طلحہ کہا اور دوسرے نے زبیر، یہ گروہ دوسرے گروہ (شیعوں) کے مقابلے میں جنگ پر روانہ ہوا اور اعلان کیا کہ ہم "علی ابن ابیطالب" کے اصحاب سے جنگ لڑیں گے۔"

بہرکیف مراسم عزاداری اسی طرح سے قائم رہے، عبدالجلیل قزوینی کی تحریروں سے استفادہ ہوتا ہے کہ امام حسین(ع) پر یہ گریہ و ماتم نہ صرف شیعوں میں برقرار تھا بلکہ کئی سنّی علماء بھی یہ مراسم مناتے تھے۔ خراسان میں شیعہ سنّی سب مل کر عزاداری کا انعقاد کرتے تھے جس کا خاص اہتمام وہاں کے سنّی امراء کرتے تھے۔ صفویوں کے دور اقتدار سے پہلے ایک خراسانی سنّی شاعر و مصنّف نے امام حسین(ع) کے فضائل، مصائب اور عزاداری کے ثواب پر ایک کتاب "روضۃ الشہداء" لکھی جو بعد میں صفوی دور میں بہت مشہور ہوئی۔ ذاکرین اسی کتاب سے مصائب پڑھتے تھے اور یہ سلسلہ ایسا رائج ہوا کہ ایران میں اب بھی مصائب پڑھنے کو "روضہ خوانی" کہتے ہیں یعنی روضۃ الشہداء پڑھنا، کیونکہ ذاکرین منبر پر اسی کتاب کو لے کر مصائب پڑھتے تھے۔ گو کہ روضۃ الشہداء میں بہت علمی محدودیت تھی اور بعد میں رائج ہونے والے بہت سے واقعات کربلا میں روضۃ الشہداء کا کردار رہا ہے لیکن اس کے اثر و نفوذ سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اگر اللہ نے توفیق دی تو کبھی صفوی دور میں رائج عزاداری کی رسومات پر تحریر لکھیں گے۔


والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ


خاکپائے اہل بیت(ع): ابو زین الہاشمی

No comments:

Post a Comment