Monday, January 6, 2014

وجہ اللہ سے کیا مراد ہے؟


٭وجہ اللہ سے کیا مراد ہے؟ ٭

اباصلت نے امام رضا(ع) سے پوچھا: یابن رسول اللہ(ص) اس روایت کا کیا مفہوم ہے: لاالہ الاّ اللہ کہنے کا ثواب اللہ کے چہرہ کا دیکھنا ہے؟

امام رضا(ع): اے اباصلت! جو لوگ "وجہ اللہ" کی توصیعف مخلوقات کے چہرہ و صورت ک طرح کرے گا وہ کافر ہو گیا۔ "وجہ اللہ" سے مراد انبیاءو رسل اور ان کی حجّت (اوصیاء) ہیں۔ وہی وہ لوگ ہیں جن کے توسّط سے اللہ، اور اس کے دین اور اس کی معرفت کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے؛

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

(روئے زمین پر موجود ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور صرف آپ کے صاحب عزت و جلال رب کی ذات باقی رہنے والی ہے)۔

٭احتجاج طبرسی، ج2 ص225٭

خلاصہ: وجہ اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے، اور تمام انبیاء و رسل و اصیاء اسی اللہ کے دین کا مصداق ہیں۔ چنانچہ حضرت محمد مصطفی(ص) بھی وجہ اللہ ہیں، حضرت ابراھیم(ع) بھی وجہ اللہ ہیں، موسی(ع) بھی وجہ اللہ ہیں، آدم و نوح و ادریس و یعقوب و ایّوب و اسماعیل و اسحاق و عیسی(علیھم السلام) بھی وجہ اللہ ہیں۔

مولا علی(ع) و امام حسن و حسین(ع) و تمام آئمہ وجہ اللہ ہیں اور اللہ کی کتاب اور اللہ کا دین اسلام بھی وجہ اللہ ہے۔


خاکسار: ابو زین الہاشمی 

No comments:

Post a Comment