Tuesday, February 11, 2014

"علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے"

سوال) ایک حدیث کافی مشہور ہے علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے، یہ حدیث ہماری کتب میں کہاں کہاں موجود ہے؟ اور کیا اس حدیث پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟


جواب) یہ حدیث بحارالانوار میں روضۃالواعظین سے ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے؛

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَوْ بِالصِّينِ فَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِم

رسول اللہ ص نے فرمایا: علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

(بحارالانوار: ج1 ص180، روضۃ الواعظین: ج1 ص18)

اس حدیث کی اصل جڑ روضۃ الواعظین ہے جہاں سے یہ مختلف کتب میں نقل ہوئی۔ بحارالانوار کے علاوہ علامہ طبرسی نے مشکاۃ الانوار، ابن ابی جمہور احسائی نے عوالی اللئالی، شہید ثانی نے منیۃ المرید میں، ملاّ صدرا اور ملاّ صالح مازندرانی نے اپنی شروح کافی میں اور شیخ حرّعاملی نے وسائل الشیعہ میں نقل کیا ہے۔


یہ حدیث مصباح الشریعہ میں امام علی ع سے ان الفاظ کے ساتھ بھی نقل ہوئی ہے؛

وَ قَالَ عَلِيٌّ ع اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَوْ بِالصِّينِ وَ هُوَ عِلْمُ مَعْرِفَةِ النَّفْسِ وَ فِيهِ مَعْرِفَةُ الرَّبِّ عَزَّ وَ جَل

امام علی(ع): علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے، اور علم سے مراد اپنے نفس کی معرفت ہے اور اسی میں اپنے رب عزّوجل کی معرفت پنہان ہے۔

(مصباح الشریعہ: ص13 باب الخامس فی العلم)

مصباح الشریعہ کی اس روایت کو علامہ مجلسی نے بحارالانوار ج2 ص34 پر بھی نقل کیا ہے۔ یہاں پر مصباح الشریعہ کے حوالے سے تھوڑی گفتگو کریں گے۔ اس کتاب مصباح الشریعہ کو امام صادق ع سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ کسی شیعہ عالم کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے امام صادق ع کی احادیث نقل کی ہیں۔

شیخ کفعمی نے مجموع الغرائب میں کثرت سے مصباح الشریعہ سے نقل کیا ہے۔ شہید ثانی نے کشف الریبہ، منیۃ المرید، مسکن الفوائد، اور اسرار الصّلاہ میں اس کتاب سے کثرت سے نقل کیا ہے اور احادیث کو قطعی طور پر امام صادق ع سے نسبت دی ہے۔ سیّد ابن طاؤوس نے کتاب "الامان" میں مصباح الشریعہ کی بہت تعریف کی ہے، اور کہا ہے کہ ہر مسافر اپنے ساتھ اس کتاب کو ضرور رکھے کیونکہ اس میں اللہ کی طرف سیر و سلوک کے طریقے ہیں اور اس کتاب کے ہمسفر ہونے سے انسان اللہ کی یاد کو فراموش نہیں کرتا۔

اس کے علاوہ کچھ علماء نے اس کتاب پر اعتبار نہیں کیا۔ ان کے دلائل یہ ہیں؛

1) اس کی روایات مرسل ہیں

2) اس کا مصنّف معلوم نہیں

3) اس کے مضامین تصوّف سے مشابہت رکھتے ہیں

4) اس روایت کا اسلوب معصومین ع کی دیگر احادیث کی طرح نہیں (بحارالانوار: ج1 ص32)

اس کتاب کی روایات کا مرسل ہونا یا اس کے مصنّف کا معلوم نہ ہونا ضرر نہیں پہنچاتا کیونکہ تمام روایات اخلاقی ہیں جیسے زھد، قناعت، شکر، غیبت و ریاکاری و تکبّر و حسد اور طمع کی مذمّت۔۔۔۔ علاوہ ازیں روزمرّہ کے آداب و سنن جیسے بیت الخلاء کے آداب، وضو اور نماز کے آداب وغیرہ۔ ان روایات میں سند کا ضعف کسی نقصان کا باعث نہیں بشرطیکہ مسلّمات و عقل سلیم سے متصادم نہ ہو۔

جہاں تک تصوّف سے مشابہت کی بات ہے تو مخفی نہ رہے کہ اہل تصوّف کے پیش نظر دو چیزیں ہیں۔ تہذیب و تزکیۂ نفس، عبادت و ریاضت، مجاہدہ و تفکّر و مشاہدہ۔۔ یہ چیزیں جائز ہیں اور علمائے کرام نے بھی ان بہترین چیزوں پر توجّہ کی ہے۔ تصوّف کی مذمّت کی آڑ میں ان چیزوں کی مذمّت روح اسلام سے عدم واقفیت کی علامت ہے۔ بعض ذہنی طور پر پسماندہ لوگوں نے سید ابن طاؤوس، شہید ثانی و امام خمینی پر صوفی گری کی تہمت اسی لئے لگائی ہے۔

تصوّف میں جو کمالات و منازل بتائے جاتے ہیں اور باطل عقائد رکھے جاتے ہیں جیسے حقیقت محمپدیہ و وحدت الوجود و اتّحاد و حلول جو شدید مذموم ہیں۔ علاوہ ازیں تصوّف کی اصل مذمّت کی ایک وجہ رہبانیت ہے، تصوّف میں دنیا کو ترک کرنے پر زور ہے جو شریعت میں شدید مذموم ہے۔ تصوّف کی یہی باتیں ناقابل قبول ہیں ورنہ تصوّف میں جو چیزیں اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہیں ان کو اپنانے میں حرج نہیں بلکہ ان کو اپنانا واجب ہے تاکہ کمالات روحانی و معنوی حاصل ہوں۔

لہذا مصباح الشریعہ کی وہ روایات جو عقل و نقل سے متصادم نہ ہوں اور بہترین اخلاقی تربیت کرتے ہیں ان کو نقل کرنے اور قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

پس "علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے" یہ حدیث قبول کرنے میں حرج نہیں، بلکہ یہ روایت اسلام کے بنیادی حکم "علم کی فرضیت" کے عین مطابق ہے۔

واللہ اعلم

العبد: ابوزین الہاشمی

Tuesday, January 21, 2014

بوہری اور آغا خانی کون ہیں؟ ایک مختصر تعارف

سوال: بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے اور کیا بوہری اور آغا خانی مسلمان ہیں؟

جواب: بوہری اور آغا خانی دونوں کی اصل ایک ہے۔ امام جعفر صادق(ع) کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادق(ع) کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق(ع) کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق(ع) کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق(ع) بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، امام(ع) نے اسماعیل کی وفات کے بعد اس کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی کئی۔

جب امام صادق(ع) کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم(ع) کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں امام صادق(ع) کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔

جن لوگوں نے امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ اور اس وقت تک یہ باعمل قسم کے شیعہ تھے لیکن اثنا عشری نہ تھے۔



ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور قزوین نامی شہر کا اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام "حسن علی ذکرہ السّلام" آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔

آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو "آغا خان" کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب "محلاّت" نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن جب اس کو شکست ہوئی تو بھاگ کر ہندوستان میں پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو "سر" کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔

بوہریوں کی خلافت جب مصر میں ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔

جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں جب تک کہ یہ کسی امام کو گالی نہ دیں۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظم(ع) کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔


دوسری طرف آغاخانیوں کا اسلام اس لئے مشکوک ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے کئی چیزوں کے منکر ہیں۔ نماز کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ نماز سے انکار نہیں کرتے لیکن نماز کا طریقہ الگ ہے۔ جو چیز ان کے اسلام کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ "حلول" کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا نور علی(ع) میں حلول کر گیا اور علی(ع) کا نور ان کے ہر امام میں آتا رہا، ان کے حساب سے پرنس کریم آغا خان اس وقت کا علی(ع) ہے، اور جب یہ لوگ "یاعلی مدد" کہتے ہیں تو ان کی مراد ہماری طرح مولا علی(ع) نہیں ہوتے بلکہ پرنس کریم آغا خان ہوتے ہیں۔

لیکن ہمارے لوگ خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی سلام کے طور پر یاعلی مدد کہنا شروع کیا۔

آغا خانیوں میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ "معاد جسمانی" کے منکر ہیں یعنی ان کے نزدیک میدان حشر، پل صراط، جنّت و جہنّم کا کوئی ظاہری وجود نہیں بلکہ یہ کنایہ ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اس جسم کے ساتھ حشر کے دن نہیں اٹھائے جائیں گے۔ "معاد جسمانی" ہماری ضروریات دین میں سے ہے اور جو اس کا قائل نہیں تو اس کے اسلام پر حرف آتا ہے۔

والسّلام

العبد: ابوزین الہاشمی

Wednesday, January 8, 2014

تشہد میں شہادت ثالثہ اور آیت اللہ صادق شیرازی

* شہادتِ ثالثہ در تشہد اور آیت اللہ صادق شیرازی (رح) *

سوال: تمام مستند اور مشہور مراجع نے تشہد میں شہادت ثالثہ کی اجازت نہیں دی۔ لیکن آجکل بعض لوگ آیت اللہ صادق شیرازی کا نام لے کر تشہد میں شہادت ثالثہ کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں، اس میں کتنی صداقت ہے؟

جواب: آیت اللہ صادق شیرازی کی توضیح المسائل میں تشہد میں شہادت ثالثہ کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ آپ توضیح المسائل میں مسئلہ نمبر 1109 میں دو شہادتوںوالا تشہد نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ احتیاط واجب یہ ہے کہ اس تشہد میں مزید کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔


علاوہ ازیں آپ اپنی آفیشل ویب سائٹ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں؛ "آنچه از روایات شریفه وارده در کتاب «وسائل الشیعة: کتاب الصلاة، ابواب افعال الصلاة، وابواب التشهد، وابواب التسلیم: ج5 و6» استفاده می شود آن است که نمازی که شیعیان تا به امروز می خوانند در کیفیت، طبق نمازی است که رسول خدا و اهل بیت آن حضرت (که درود خدا بر آنان باد) می خواندند، حتی در شهادتین و صلوات در تشهد و سه سلام در تسلیم آن، و فقهاء جامع الشرائط شیعه آن را در رساله های توضیح المسائل بیان کرده اند".

یعنی: "وسائل الشیعہ: کتاب الصلاہ، ابواب افعال الصلاہ، و ابواب التشھد، وابواب التسلیم: ج5 اور 6 میں جو کچھ روایات شریفہ میں وارد ہوا ہے اس سے یہ مستفید ہوتا ہے کہ وہ نماز جو شیعہ آج کے زمانے تک پڑھتے آئے ہیں کیفیت کے لحاظ سے وہی نماز ہے جو رسول اللہ(ص) اور ان کے اہل بیت(ع) پڑھا کرتے تھے جیسے تشھد کی دو شہادتوں میں (اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمدا رسول اللہ) اور سلام نماز کی تین سلاموں میں، جن کو جامع الشرائط شیعہ فقہاء نے اپنی توضیح المسائل میں بیان کیا ہے"۔


آیت اللہ صادق الشیرازی کی اس عبارت سے درج ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

1) کہ آپ کی نگاہ میں بھی معصومین(ع) اور ان کے دور میں شیعہ جو تشھد پڑھتے تھے اس میں دو شہادتیں ہی ہوا کرتی تھیں

2) صدر اسلام سے لے کر آج تک شیعیت کا شعار تشھد میں دو شہادتین رہی ہیں اور تین سلام رہے ہیں اور یہی وہ نماز ہے جو معصومین(ع) منجملہ رسول اللہ(ص) پڑھتے رہے، پس تشہد میں شہادت ثالثہ کا اضافہ آجکل کے دور کا تحفہ ہے۔

آپ کے اس جواب کے بعد مزید کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ان کے مطابق بھی ہمیشہ سے لے کر اب تک شیعیت کے درمیان یہی دو شہادتوں والا تشہد رائج رہا ہے اور معصومین(ع) بھی ہمیشہ اسی تشہد کو پڑھتے رہے۔ اگر ہم بالفرض مان بھی لیں کہ انہوں نے اس کی اجازت دی بھی ہے تو یہ فقط جائز ہوا نا؟ اس پر اس قدر تاکید کرنا اور بعض صورتوں میں اس کو واجب کہنا اور بعض صورتوں میں کہنا کہ جو اس کو ترک کرے وہ حرامی ہے، یہ سب کہاں سے ٹھیک ہو گیا؟ اگر انہوں نے جائز قرار دیا تو باقی علماء و فقہاء کے بارے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے "عقیدے" کی حفاظت نہیں کی؟ معاصر مراجع میں ایک ہی مجتہد ایسے ہوں گے جو اس کی اجازت دیتے ہوں گے، باقی سب کیا شیعوں کے دشمن ہیں؟ اگر اس طرح سے کہنا ہی ہے تو دیگر مراجع اذان میں شہادت ثالثہ چھوڑنے کو جائز کہتے ہیں، تو کیا کوئی تاکید کرنے لگ جائے کہ اذان میں شہادت ثالثہ ضرور چھوڑو؟ تب آپ لوگوں کے دلوں پر بجلیاں گریں گی

حقیقت تو یہ ہے کہ شہادت ثالثہ کی تشہد میں تاکید ایک شرپسندی کے سوا کچھ نہیں، آيت اللہ صادق شیرازی کی رائے کو ایک فقہی رائے ہی سمجھنا چاھئے تھا، لیکن ان کا نام لے کر شہادت ثالثہ کی ترویج کیسے ٹھیک ہے؟ یہ ہمارے پاکستان کے مخصوص علاقے کے شرپسند ہیں جو اس پر اتنی تاکید کرتے ہیں کہ جیسے سارا ایمان یہی ہے کہ تشہد میں یہ شہادت پڑھی جائے اور جو نہ پڑھے وہ شیعہ ہی نہیں۔ ہم اس شدّت پسندی کے مخالف ہیں، ایک مجتہد کا فتوی ہو تو دوسری طرف سینکڑوں مراجع کے فتوی اس کے عدم جواز پر ہیں

ہمارا موقف صرف یہ ہے کہ یہ فقہی مسئلہ ہے اس کے پڑھنے پر تاکید کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ جنہوں نے اس کی اجازت دی انہوں نے اس کو نہ مستحب کہا اور نہ واجب، یہ فقط جائز ٹھہرا وہ بھی صرف آیت اللہ صادق شیرازی کی نظر میں۔ یہاں پاکستان میں جو لوگ اس کا پرچار کرتے ہیں وہ تقلید کے ہی قائل نہیں ہیں، صادق شیرازی کا نام استعمال ہی کیا جاتا ہے۔ صرف جائز ہے، تو اس پر تاکید واجب کی طرح کیوں؟

ہم نماز کو اسی طرح سے پڑھنے کے پابند ہیں جس طرح آئمہ(ع) نے پڑھی، ولایت کا پہلا تقاضا اطاعت ہے۔ ہمیں اپنے دینی امور میں معصومین(ع) کی اطاعت کرنی ہے، ہماری معتبر کتب و احادیث میں کہیں پر بھی کسی امام نے شہادت اس طرح نہیں پڑھی۔ لہذا وہ فتاوی جو صریحا معصومین(ع) کے مطابق ہوں صحیح ہیں اور جو فتاوے اس کے خلاف ہوں وہ خطائے اجتہادی ہے ۔ 

اس پر تاکید کرنا یا اسے بنیاد بنا کر شیعوں میں تفرقہ ڈالنا انتہائی مذموم فعل ہے جو بھی یہ کرتا ہے خدا ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھے آمین.


ابو زین الھاشمی

علماء کو فتوی دینے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

٭علماء کو فتوی دینے میں کن کن عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ آیت اللہ العظمی سیّد محمد باقر درچہ ای مرحوم کی نگاہ میں٭

آیت اللہ العظمی سیّد محمد باقر درچہ ای قاجاری و پہلوی دور میں ایران کے ایک توانا مجتہد رہے ہیں۔ آپ میرزای شیرازی کے شاگرد رشید تھے اور اجتہاد کا ملکہ حاصل کرنے کے بعد اصفہان کو اپنا مستقر بنا لیا۔ آپ نے تگڑے شاگردوں کی تربیت کی جن میں سر فہرست آیت اللہ العظمی سیّد ابوالحسن اصفہانی، آیت اللہ العظمی سیّد حسین بروجردی و آیت اللہ العظمی سیّد حسن مدرّس جیسے نامی گرامی علماء تھے۔ آپ کا تمام علوم اسلامی میں تبحّر اپنی مثال آپ تھا اور آپ بطور روشن فکر معروف تھے۔ خالص اسلامی عقائد خصوصا توحید پر زور دیتے تھے جس کی وجہ سے آپ کے مخالفین میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ آپ کو شاہ ایران رضا خان پہلوی کے حکم پر علی الصبح حمّام میں شہید کیا گیا۔


اس مختصر تعارف کے بعد ہم ان کے افکار سے کچھ اقتباس پیش کرتے ہیں؛

"یہ مت بھولیں کہ آجکل کے دور میں بہت سے اعمال جو جائز سمجھے جاتے ہیں صدر اسلام میں ان کا کوئی اثر نہیں تھا، قدیم علماء ان کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور یہ بھی مت بھولیں کہ ان میں سے اکثر اعمال معاشرہ اور قوم کی عادات و رسومات سے متاثر ہیں۔ پہلے ان اعمال کو بہت معمولی سمجھا گیا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ عادات معمول ہوتے گئے۔ امتداد زمانہ کی وجہ سے ان میں "زیادہ روی" ہوتی رہی یہاں تک کہ اب واضح خلاف شریعت ہے۔ لیکن اب چونکہ یہ اس قدر نفوذ کر چکا ہے، خود علماء بھی اس سے متاثر ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مرحوم آقا دربندی نے وصیت کی تھی کہ ان کے خون سے تر کفن کو ان کے ہمراہ دفن کیا جائے جس پر انہوں نے قمہ زنی کی تھی۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ میّت کے ساتھ ایک ذرّہ نجاست بھی دفن نہیں ہونا چاھئے، بلا شکّ و تردید خون گیارہ نجاسات میں سے ایک ہے لیکن مرحوم دربندی جو اپنے زمانے میں عوامی عقائد و اوہام کے زیر اثر تھے، اپنی علمیت اور شرعی قابلیت کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔

البتہ آپ لوگوں کو یہ بات عجیب نہیں لگنی چاھئے، جب یونانی بت پرستوں کا فلسفہ مسلمانوں کے ہاتھ پہنچا تو انہوں نے کوشش کی کہ اس فلسفے کو شرع، احکام و عقائد اسلامی کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور جب یہی فلسفہ عیسائیوں کے ہاتھ لگا تو انہوں نے کوشش کی کہ اس کو حضرت عیسی(ع) کے حواریوں کے اقوال کے مطابق ڈھالا جائے جبکہ یہ تمام حواری متقی، زاھد و عابد تھے اور فلسفہ و علوم یونانی سے ناواقف تھے۔۔۔ ان سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے اطراف سے دین کو لیتے ہیں اور پھر عالم بنتے ہیں (یعنی عقائد پہلے بن جاتے ہیں اور تحقیق و تعلیم بعد میں کرتے ہیں)۔ بالفاظ دیگر علم کی تلاش سے پہلے، جب انسان کا ذہن بالکل خالی اور سادہ ہوتا ہے، اپنے والدین اور ماحول سے اپنے عقائد و دین کو تشکیل دیتا ہے۔ جب وہ تعلیم حاصل کرنے لگتا ہے تو پہلے سے نقش شدہ عقائد کے مطابق اپنا دین حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء جو ایران کے عادات و اطوار و افکاری ماحول میں رہتے ہیں، ان رسومات و عقائد پر بات نہیں کر سکتے جو شرع کے خلاف ہیں لیکن لوگوں کے عقائد و افکار کے مطابق ہیں۔ اور شاید ان چیزوں کو وہ خلاف شرع بھی نہ سمجھیں کیونکہ وہ اسی محیط میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

مثلا عزاداری امام حسین(ع) میں گریہ و زاری معصومین(ع) سے ثابت ہے، لیکن رفتہ رفتہ اس میں جدّت پیدا ہوتی گئی۔ خصوصا جب ترک اور ایرانی شیعہ ہوئے تو انہوں نے خونی ماتم کا اجراء کیا جو کہیں سے عقلی پیمانے کے مطابق نہیں، اس وجہ سے ہر چیز میں افراط و تفریط شروع ہو گئی، یہاں تک کہ منّت کے نام پر جسم میں سوراخ کر کے تالا باندھتے ہیں یا سلاخیں آر پار کرتے ہیں۔ کیا اس طرح سے خود کو اذیّت دینا عقل و شریعت کے خلاف نہیں؟"

(جایگاہ و اندیشہ ھای روحانی روشنفکر آزاد اندیش آیت اللہ سیّد محمد باقر درچہ ای)


ترجمہ و پیشکش: ابو زین الہاشمی

مقتل ابی مخنف کا اعتبار

٭مقتل ابو مخنف٭


جو لوگ واقعات کربلا کا مطالعہ رکھتے ہیں ان کے لئے ابو مخنف کا نام غیر مانوس نہیں ہے۔ ابو مخنف کا نام لوط بن یحیی تھا جو ایک مشہور تاریخ دان تھا۔ مؤرخین نے ابو مخنف لوط بن یحیی پر تاریخ میں بہت اعتماد کیا ہے۔ ابو مخنف ایک شیعہ مؤرخ تھا اور امام صادق(ع) کے اصحاب میں شمار ہوتا تھا، اس نے امام صادق(ع) سے روایات بھی نقل کی ہیں۔ شیخ نجاشی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ابو مخنف کوفہ میں مؤرّخین کے استاد ہیں اور سب کے لئے مورد اعتماد ہیں۔ انہوں نے کئی کتب لکھیں جن میں سب سے مشہور "مقتل الحسین" ہے، یہ ابتدائی معتبر مقاتل میں سے ہے۔


لیکن بدقسمتی سے اس وقت یہ کتاب ہمارے پاس مکمّل نہیں پہنچی۔ جو کـچھ بھی ہم تک پہنچا ہے وہ تاریخ طبری، تاریخ کامل و تاریخ دمشق و دیگر معتبر تاریخ کی کتب سے پہنچا ہے۔ امام طبری نے ابو مخنف پر بہت اعتماد کیا ہے اور مقتل الحسین سے حوادث کربلا لکھے۔ گویا ان قدیم مؤرخین کے پاس ابو مخنف کی مقتل الحسین موجود تھی۔ کچھ عرصہ پہلے تاریخ طبری میں سے ابو مخنف کی روایات کو جمع کر کے کتابی شکل میں قم سے چھپوایا گیا، لیکن یہ تمام مقتل الحسین نہیں ہے بلکہ اس کا ایک حصّہ ہے۔

لیکن ایک اور کتاب "مقتل ابی مخنف" کے نام سے گردش کر رہی ہے جو بمبئی، بعداد، نجف اور ایران سے متعدد دفعہ چھپی ہے۔ یہ جعلی مقتل بحارالانوار کی قدیم جلد نمبر 10 کے ساتھ ناصر الدّین شاہ قاجار کے دور میں چھپی بھی چھپی تھی۔ یہ ابو مخنف لوط بن یحیی کی تالیف ہرگز نہیں کیونکہ تاریخ طبری میں جو کچھ ابو مخنف سے نقل ہوا ہے وہ اس جعلی مقتل سے بہت مختلف ہے، علاوہ ازیں اس میں ایسی باتیں ہیں جن کا باطل ہونا عیاں ہے۔ علماء نے بھی اس مقتل پر اعتماد نہیں کیا۔

علامہ نوری طبرسی اپنی مشہور کتاب لؤلؤ و مرجان میں ص156 میں فرماتے ہیں: "ابو مخنف لوط بن یحیی بزرگ محدّثین و اہل سیر و تواریخ سے ہیں، ان کی مقتل انتہائی معتبر ہے جیسا کہ قدیم مشہور علماء اور ان کی تالیفات سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اصل مقتل جو تمام عیب سے پاک ہو ہم تک نہیں پہنچی ہے۔ اس وقت وہ مقتل جس کی نسبت ابو مخنف سے دیتے ہیں، کئی منکرات اور مسلّمات اصول مذہب کے خلاف ہے اس لئے درجۂ اعتبار و اعتماد سے خارج ہے۔ جہاں یہ مقتل منفرد ہو ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس مقتل میں کئی کمی بیشی واضح نظر آتی ہے۔"

شیخ عباس قمّی نفس المہموم کے ابتدا میں فرماتے ہیں: "لوط بن یحیی ابو مخنف متوفای 157 ہجری، ایک معتبر مؤرخ ہے اور اس کی کتاب مقتل الحسین بھی علماء کے نزدیک معتبر اور مورد اعتماد ہے۔ لیکن یہ مقتل جو آج ہمارے ہاتھ ہے اور اس کی نسبت ابو مخنف سے دی جاتی ہے، یہ مورد اعتماد ابو مخنف کی نہیں اور نہ کسی اور معتبر مؤرخ کی تصنیف ہے۔" 

آیت اللہ صالحی نجف آبادی فرماتے ہیں کہ ہم نے اس مقتل، جس کو ابو مخنف سے منسوب کیا جاتا ہے، کا موازنہ تاریخ طبری سے کیا، اور ان دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق پایا۔ یہ جعلی مقتل کافی عرصہ پہلے فارسی میں ترجمے کے ساتھ چھپی ہے جس کے شروع میں مترجم ابو مخنف لوط بن یحیی کے احوال لکھتا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ واقعی یہ ابو مخنف کی مقتل ہے۔ یہ مقتل عام عوام کے ہاتھ میں پہنچتی ہے اور اہل منبر جو روایات پڑھنے میں کسی قسم کا تدبّر نہیں کرتے، ان کے لئے یہ نعمت سے کم نہیں اور وہ اس میں سے مطالب عوام میں شائع کرتے ہیں۔ اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ جعلی مقتل اردو میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے جس کے شروع میں مترجم ٹائٹل کے ساتھ لکھتا ہے "قدیم ترین مقتل کی کتاب"۔

یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ فاضل دربندی نے "اسرار الشہادہ" میں اور سپہر نے "ناسخ التواریخ" میں اسی جعلی مقتل پر کافی انحصار کیا ہے۔ اسی لئے ان دونوں کتب میں جعلی مصائب و مقاتل بہت فراوان ہیں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ابو مخنف کی روایات میں وہی معتبر ہیں جو تاریخ طبری سمیت دیگر قدیم تواریخ میں موجود ہے، اور اس وقت جو مقتل ابی مخنف گردش کر رہی ہے وہ مورد اعتماد نہیں۔


تحریر: ابوزین الہاشمی 
تحریک تحفظ عقائد شیعہ

Tuesday, January 7, 2014

شہادت امام حسین(ع) پر معرفت کے ساتھ گریہ کرنا لازمی ہے

٭شہادت حسین(ع) پر معرفت کے ساتھ رونا چاھئے٭

ہم گریہ کے مخالف نہیں بلکہ اسے عبادت سمجھتے ہیں لہذا روئیے اور خوب روئیے لیکن یہ گریہ و بکا ان لوگوں کا گریہ و بکا ہو جن کو امام حسین(ع) کی صحیح معرفت ہے، جو ان اصول کا احترام کرنے کے لئے ہر وقت عملی طور پر تیار رہتے ہیں اور جن کے لئے امام حسین(ع) نے خونی کفن پہنا ھا ورنہ مصائب سن کر رو لینا کوئی بڑا کمال نہیں۔ یہ واقعات ہی اس نوعیت کے ہیں کہ ان کو سن کر ہم تو کیا غیروں کے بھی آنسو نکل آتے ہیں۔ واقعات شاھد ہیں کہ خود کوفی و شامی ظلم بھی کرتے جاتے تھے اور روتے بھی جاتے تھے۔

اب انصاف شرط ہے کہ اگر ہم شہادت حسین(ع) سے اس قدر متاثر ہوئے کہ چند آنسو بہا لئے کچھ رسمی ماتم کر لیا تو پھر ہم میں اور اغیار میں فرق کیا رہا؟ افسوس ہے کہ شیعوں کو بچپن سے ہی اس امر کا عادی بنا دیا جاتا ہے کہ وہ رونے کو ہی دین و دنیا کا مآل سمجھیں اگرچہ شہادت حسین(ع) کے دیگر اہم مقاصد اور اغراض پامال ہو جائیں۔


مصائب حسین(ع) پر رونے اور رلانے والی احادیث پر ہمارا ایمان ہے لیکن ان کا منشاء کسی لحاظ سے یہ نہیں ہے کہ شہادت کا مقصود بالذات اور اصل منشاء صرف گریہ و بکاء ہی ہے اور ذاکر و مولوی کو دوسرے مقاصد و اغراض سے کوئی ربط و تعلق ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کہ گریہ و بکا امام حسین(ع) کی شہادت عظمی کی اصلی غرض و غایت کی نشرو اشاعت اور پرچار کا ایک ذریعہ ہے جس کو ہم نے غلطی سے اصل مقصد سمجھ لیا ہے۔

ہم ہر سال محرم کا پہلا عشرہ یا پورا مہینہ یا اس سے زائد عرصہ تک واقعات کربلا کو یاد کر کے روتے ہیں اور رلاتے بھی ہیں، امام بارگاہوں کی آرائش و زیبائش بھی کرتے ہیں اور شربت، شیرینی، چائے، شیرمال وغیرہ جیسے رسوم پر بے دریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ ذاکرین و واعظین کو بھاری بھرکم فیسیں بھی ادا کرتے ہیں لیکن انصاف سے بتائیے کہ ہم محمدی مشن اور حسینی مشن کا کون سا کام کرتے ہیں؟

ہمارے سارے کام یزیدی، ہمارے سارے افعال یزیدی، کیا ایسی حالت میں ہم کو دربار محمدی(ص) یا سرکار حسینی(ع) سے کسی انعام کی امید رکھنی چاھئے؟ محض رونے پیٹنے اور رسوم ظاہری ادا کرنے سے روح محمدی(ص) و روح حسینی(ع) کبھی خوش نہیں ہو سکتی جب تک حسینی مشن کی تکمیل نہ کریں۔


العبد: ابو زین الہاشمی

واہ واہ کلچر

٭واہ واہ کلچر٭

میں آپ سب کی توجہ ایک چیز کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، پورے ہندوستان میں بشمول موجودہ بھارت اور پاکستان، یہ رواج ہے کہ مجلس کے دوران ذاکرین کو داد ملتی ہے۔ نکتہ ہائے خوش کنندہ پر اس کو خوب واہ واہ اور خراج تحسین ملتی ہے اور نعرے بھی ہدیہ کئے جاتے ہیں۔ البتہ ایران و افغانستان و عراق و شام و لبنان و ترکی و دیگر عرب ممالک میں ایسا نہیں ہوتا جہاں سامعین بہت خاموشی اور احترام کے ساتھ مجلس و بیان سنتے ہیں۔


اس واہ واہ والے کلچر نے ہماری مجالس کی ہیئت ہی دل دی ہے، اور اس سے درج ذیل مسائل جنم لیتے ہیں:

1) واہ واہ ہونے اور شور و غل ہونے کو مجلس کی کامیابی کی دلیل تصوّر کیا جاتا ہے، مجلس میں جتنی واہ واہ ہو مجلس اتنی کامیاب ہے اور ذاکر اتنا اچھا ہے، اور جس مجلس میں واہ واہ کم ہو وہ مجلس کامیاب نہیں اور ذاکر اچھا نہیں

2) پہلے فیکٹر کی وجہ سے ذاکرین خود بھی داد کے طالب رہتے ہیں، اگر داد نہیں ملتی تو وہ یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ سامعین اس کو پسند نہیں کر رہے۔ بعض ذاکرین نے کچھ مخصوص لوگ رکھے ہیں جو سامعین کی صفوں میں بیٹھ کر واہ واہ کرتے ہیں اور مجلس کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔

3) پہلے دونوں عوامل کی وجہ سے ذاکر پھر ایسا موضوع منتخب کرتا ہے یا ایسے نکتے بیان کرتا ہے جس پر اس کو خوب داد ملے، یعنی عوامی امنگ کے مطابق گفتگو کرتا ہے تاکہ خوب داد ملے۔ اس روش سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ معیار مستند اقوال نہیں ہوتے بلکہ معیار عوام کی پذیرائی ہوتی ہے۔ اس سے وہ موضوعات رہ جاتے ہیں جن کی ضرورت اس معاشرے کو ہوتی ہے اور اکثر اوقات عوام کو پسند نہیں آتے۔

4) عوام میں بہت سے ایسے ہیں جو ان ذاکرین کو سننا پسند کرتے ہیں جن کے واہ واہ کرنے والے سب سے زیادہ ہوں، یا جن کو پذیرائی ملتی ہو۔ اس کی وجہ سے لوگ یہ تمیز کرنا بھول جاتے ہیں کہ کون زیادہ مستند باتیں کرتا ہے اور کون نہیں، بلکہ پھر انتخاب کا معیار یہ ہوتا ہے کہ کون عوام کو کتنا خوش کرتا ہے؟

5) اس روش کی وجہ سے مجلس تصنّع (بناوٹ) کا شکار ہوتی ہے، حقیقت کے رنگ سے زیادہ تصنّع کا رنگ آجاتا ہے۔

6) یہ روش مجلس کے آداب کے خلاف ہے جس میں غور سے اور خاموشی کے ساتھ عالم کی گفتگو سننے کا حکم ہے۔ مجلس کی ہیئت ہی عجیب ہوتی ہے اور مجلس نہیں لگتی بلکہ کوئی مشاعرہ لگتا ہے۔


اللہ تعالی ہم سب کو عزاداری حسین ع کو اصل روح کے ساتھ منانے کی توفیق عنایت فرمائے اور فرش عزا کو مقصد حسین (ع) کے صحیح ادراک کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔


آمین


العبد: ابو زین الہاشمی
تحریک تحفظ عقائد شیعہ